10 اشعار

دلِ مکار کو مکار پکارا جائے

Dil-e-makkaar ko makkaar pukara jaaye

دلِ مکار کو مکار پکارا جائے

«دلِ مکار کو مکار پکارا جائے» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

دلِ مکار کو مکار پکارا جائےکیوں نہ غدار کو غدار پکارا جائے

ہم نے مانا کہ کہاں لوٹتی ہے عمرِ رواںدل کے بہلانے کو ایک بار پکارا جائے

بھیک میں دے دے جو مئےکے لیے جوڑے سکےایسے مئے کش کو تو دیندار پکارا جائے

اس سے مظلوم کی توہین ہوا کرتی ہےکبھی قاتل کو نہ دلدار پکارا جائے

میں ہی ہر بار قبیلے کے لیے دار چڑھوںمیرا نام ہی ہر بار پکارا جائے

پھر سے اس دل پہ پڑے تیری محبت کی پھوارآج گا کر تجھے ملہار پکارا جائے

جس کی مٹھی میں محبت کے پڑے ہوں سکےایسے مفلس کو تو زردار پکارا جائے

اس لیے بھی کوئی تریاق نہیں ہم نے پیاہم کو ہر دم تیرا بیمار پکارا جائے

حرف تنقید علاج دل بیمار بھی ہےہر مخالف کو نا غدار پکارا جائے

پھر تو صدیاں اسے سینے سے لگاتی ہیں وصیجو تیرے نام سے ایک بار پکارا جائے

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں