17 اشعار

عجیب ہے یہ سلسلہ

Ajeeb hai yeh silsila

عجیب ہے یہ سلسلہ

«عجیب ہے یہ سلسلہ» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

عجیب ہے یہ سلسلہیہ سلسلہ عجیب ہے

ہوا چلے تو کھیتیوں میں دھوم چہچہوں کی ہےہوا رکے تو مردنی ہے

مردنی کی راکھ کا نزول ہےکہاں ہے تو کہاں ہے تو

کہاں نہیں ہے تو بتاابھی تھا تیرے گرتے اڑتے آنچلوں کا سلسلہ

اور اب افق پر دور تکگئے دنوں کی دھول ہے

گئے دنوں کی دھول کا یہ سلسلہ فضول ہےمیں رو سکوں

تو کیا یہ گدلی کائنات دھل سکے گیمیرے آنسوؤں کے جھاگ سے

میں مسکرا سکوںتو کیا سفر کی خستگی کو بھول کر یہ کارواں نجوم کے

برس پڑیں گے موتیے کے پھول بن کےاس مہیب کاسۂ حیات میں

نہ تو سنے نہ میں کہوںنہ میرے انگ انگ سے صدا اٹھے

یوں ہی میں آنسوؤں کو قہقہوں کواپنے دل میں دفن کر کے

گملبوں پہ سل دھرے

ترے نگر میں پا پیادہ پا برہنہشام کے فشار تک رواں رہوں

مگر کبھیتری نظر کے آستاں کو

پار تک نہ کر سکوںکہ تو ازل سے تا ابد

ہزار صد ہزار آنکھ والے وقتکی نقیب ہے

یہ سلسلہ عجیب ہےیہ سلسلہ عجیب ہے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں