9 اشعار

پتھروں کی قید میں اک آب جو

Pattharon ki qaid mein ek aab-e-joo

پتھروں کی قید میں اک آب جو

«پتھروں کی قید میں اک آب جو» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

پتھروں کی قید میں اک آب جوبے کراں نیلا سمندر چار سو

ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں میں اگرچور وہ بھی ہو چکا ہے مو بہ مو

یاد کا بے نام سا اب لمس اورمیرے اندر مشک بو ہی مشک بو

اوڑھ لیں اب رات کی ٹھنڈک تمامہے اسی میں تیری میری آبرو

کون تھا جس نے مجھے تنہا کیاچھین کر مجھ سے تمہاری آرزو

کیا نظر آیا ہے تجھ کو ابر میںکیوں ہوا ہے اس قدر بیمار تو

پھول کی ریکھا میں اس نے دیکھ کرکھینچ دی تصویر میری ہو بہ ہو

پھول خوشبو رنگ کاغذ اور میںہو رہی ہے بے صدا اک گفتگو

عکس اندر عکس میں آؤں نظرتو اگر آ جائے میرے روبرو

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں