11 اشعار

بانجھ

Baanjh

بانجھ

«بانجھ» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے وقاراحسن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

چھتوں منڈیروں اور پیڑوں پرڈھلتی دھوپ کے اجلے کپڑے سوکھ رہے تھے

بادل سرخ سی جھالر والے بانکے بادلہنستے چہکتے پھولوں کا اک گلدستہ تھے

ہر شے کندن روپ میں ڈھل کر دمک رہی تھیگالوں پر سونے کی ڈلگ اور آنکھوں میں اک تیز چمک تھی

سارا منظر کیف کے اک لمحے میں بے بسلذت کی بانہوں میں جکڑا ہمک رہا تھا

اور پھر دو آنکھوں کو ملتیکالے الجھے بالوں کو مکھ پر بکھرائے

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بڑھتی آئیپہلی کھڑکی میں جب اس نے جھانکا

کھڑکی کی دہلیز پہ رکھا اک نازک گلدان چٹخ کر ٹوٹ گیاالجھے بالوں پاگل آنکھوں والی نے تب آگے بڑھ کر

دوسری تیسری اور پھر گلی کی ہر کھڑکی میں جھانک کے دیکھاگل دانوں کو ٹھوکر ماری

اک اک پھول کو روند دیاتب وہ مجھ کو دیکھ کے لپکی

میری جانب غیظ بھری نظروں کا ریلا آیاپھر جیسے کچھ شوخ کے ٹھٹھکی

سرخ گلاب کا پھول مرے ہاتھوں میں تھمایااور خود چکنے فرش پہ گر کر ٹوٹ گئی

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں