9 اشعار

کٹھور راہیں

Kathor raahein

کٹھور راہیں

«کٹھور راہیں» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کٹھور راہیںجو الجھے دھاگوں کا ایک گچھا سا بن گئی ہیں

نہ ان کو رنگوں کی تیز برکھا سے کچھ غرض ہےوہ تیز برکھا جو منہ اندھیرے

کسی پجارن کے کپکپاتے سفید ہونٹوں پہ ناچتی ہےنہ ان کی منزل وہ شام غم ہے جو ایک میلا سا طشت لے کر

مسافروں سے لہو کے قطروں کی بھیک رو رو کے مانگتی ہےدہکتے تارے حزیں دعائیں لرزتے ہاتھوں سے بانٹتی ہے

کٹھور راہیں تو آگے بڑھ کر ادا دکھا کر پلٹ گئی ہیںپلٹ کے پہلو بدل گئی ہیں

گھنیری شب اپنی کالی کملی میں گم کھڑی ہےیہ سوچتی ہے

بھنور کی بے نور چشم تر میںکوئی سا سیدھا سفید رستہ ابھر کے چمکے

تو شب کا راہی ادھر کو لپکےیہ شب کا راہی

سمے کے دھارے پہ بہتے بہتے بھنور کی صورت ابھر گیا ہےہزار راہوں میں گھر گیا ہے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں