10 اشعار

تم جو آتے ہو

Tum jo aate ho

تم جو آتے ہو

«تم جو آتے ہو» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے وقاراحسن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

تم جو آتے ہوتو کچھ بھی نہیں رہتا موجود

تم چلے جاتے ہواور بولنے لگتے ہیں تمام

ادھ کھلے پھولسماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکان

گفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجساممردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑ

ابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندامبرف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسو

اور سلے کانوں میں آواز کی سوئیاں بے جانیک بیک بولنے لگتے ہیں تمام

زندگی بننے میں ہو جاتی ہے پھر سے مصروفوقت ہو جاتا ہے پھر خاک بہ سر بے آرام

ایک پنچھی جسے اڑتے چلے جانا ہے خدا جانے کہاںاور میں تنکوں کے بکھرے ہوئے بستر کی طرح

منتظر لوٹ کے تم آؤ کسی روز یہاںپھر ہوں اک بار معطل

یہ زمیں اور زماں

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں