6 اشعار

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

Umr ki is nao ka chalna bhi kya rukna bhi kya

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

«عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیاکرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا

اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھناآبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا

زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعدزخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا

تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی آگاب ترا اس آگ سے ڈرنا بھی کیا لڑنا بھی کیا

در دریچے وا مگر بازار گلیاں مہر بندایسے ظالم شہر میں جینا بھی کیا مرنا بھی کیا

تجھ سے اے سنگ صدا اس ریزہ ریزہ دور میںاک ذرا سے دل کی خاطر دوستی کرنا بھی کیا

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں