دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
کلام: ظفرگورکھپوری
دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسےوہ آئینہ ہے کس طرح اندھا کریں اُسے
بستی کو ہم جو چاند ستارے نہ سونپ پائیںمِٹی کا ایک دِیاہی مہیا کریں اُسے
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسےوہ آئینہ ہے کس طرح اندھا کریں اُسے
بستی کو ہم جو چاند ستارے نہ سونپ پائیںمِٹی کا ایک دِیاہی مہیا کریں اُسے
کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریببھیگے موسم میں بھی اتنی آنچ پردوں کے قریب
جیسے وہ جوڑا ابھی تک مانگتا ہے مجھ سے پھولپاؤں رک جاتے ہیں اکثر آ کے گملوں کے قریب