جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے
کلام: ظفراقبال
جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہے
یہ بھی درست ہے کہ پیمبر نہیں ہوں میںہے یہ بھی سچ کہ میرا کہا ہونے والا ہے
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہے
یہ بھی درست ہے کہ پیمبر نہیں ہوں میںہے یہ بھی سچ کہ میرا کہا ہونے والا ہے
آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں
خواب سے پہلے کچھ نہیں یکسرجو بھی ہے اس کے بعد ہے مجھ میں
آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھزندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھ
تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیںجو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ