نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
کلام: ظفراقبال
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھناکسی بھی سطح پہ کوئی تو رابطہ رکھنا
مریں گے لوگ ہمارے سوا بھی تم پہ بہتیہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھناکسی بھی سطح پہ کوئی تو رابطہ رکھنا
مریں گے لوگ ہمارے سوا بھی تم پہ بہتیہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہےیہی ہمارا نہ ہونا ہزار ہونا ہے
ابھی نہیں تجھے کر سکتے یاد چل پھر کرپڑے پڑے ہی تیرا انتظار ہونا ہے