17 اشعار

مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے

Mujh ko shayad hara bhara kar de

مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے

«مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے !تیری آواز معجزہ کر دے !

جینے والوں کو تُو نہیں مطلوب !مرنے والوں کا فائدہ کر دے !

اُن کی نظروں میں آ چکا ہوں میںکیا پتا ؟ مجھ کو کیا سے کیا کر دے ؟

راج چلتا ہے اس کی آنکھوں کاوہ جسے چاہے سرپھرا کر دے

رونے والوں کی خیر ہے سائیں !ہنسنے والوں کا ہی بھلا کر دے !

عشق کا لطف ہی نہیں آتا !عشق جب تک نہ باولا کر دے !

میں اگر تیرے کام کا ہی نہیں !پھر مجھے میرے کام کا کر دے !

جو گلہ اُس سے ہے ! رہے اُس سے !یا خدا ! خود سے بے گلہ کر دے !

یار ! انکار تھوڑی کرتا ہوں !جو بھی غم دے ! مجھے بتا کر دے !

رائیگاں کر نہیں یہ شیریں دہنرائیگاں کر نہیں یہ شیریں دہن

لا مجھے زہر میں ملا کر دےصاحبہ بادشاہا سرکارا

کچھ نہیں ہوں مگر فنا کر دےمیں پھر اس بار مان جاوں اور

تو منا کر مجھے خفا کر دےیہ مری قید کا تقاضا ہے !

ہر رہائی سے اب رہا کر دے !روز کا فیصلہ اذیت ہے !

آخری بار فیصلہ کر دے !ابتدا ہے یہی تغافل کی !

بس توجہ کی انتہا کر دے !زین کیوں ساتھ رکھ لیا ہے اُسے ؟

جو جدا ہو گیا ! جدا کر دے !

— زین شکیل