9 اشعار

ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے

Hamein dukh raha to yahi raha hamein lab nichodne pad gaye

ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے

«ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئےجو تری صِفَت کے خلاف تھے، وہی لفظ بولنے پڑ گئے

میں کہوں حیات ہے مختصر، وہ مری وفات کے منتظرانہیں پھر یقین نہیں ہوا، انہیں عہد توڑنے پڑ گئے

میں جرید باطنِ حُزن میں جو گیا پلٹ کے نہ آ سکامیں نہیں رہا ہوں تو اب تجھے، مرے درد بانٹنے پڑ گئے

تُو رہینِ لہجہِ عشق تھا، تجھے کیسے تُرش دُعا لگییونہی گفتگو میں نجانے کیوں تجھے زہر گھولنے پڑ گئے

تری کَج کلاہی ہری رہے، تری دیوتائی کی خیر ہوہمیں جتنے تیرے فُیُوض تھے، تجھے عین موڑنے پڑ گئے

وہ سرودِ دل کا طلسم تھا، کہ تجھی کو حرف نہیں ملے؟تُو تَو وجد میں بھی رہا ہے چُپ، تجھے شبد سوچنے پڑ گئے

جو امیدِ درمنِ وقت تھی، وہ تو نذرِ سانحہ ہو گئیکبھی ہجر پا کے سَفَل ہوئے، کبھی وصل کاٹنے پڑ گئے

ذرا اشتہائے وصال سُن، ترے سکھ کا خانہ خراب ہوترا ہاتھ تھامنے والڑوں کو سلوک جھیلنے پڑ گئے

وہ جو مجھ سے کہتا تھا زین جی، تمہیں کب سے پروا ہے دہر کیذرا اس کے سر پہ پڑی تو پھر، اسے لوگ دیکھنے پڑ گئے

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں