724 اشعار

ساحرہ!

Sahira!

ساحرہ!میں جو اک داستاں گو سا مشہور ہونے لگا ہوں

زمانے میںکچھ بھی عجب تو نہیں ہے کہ میں بھی کبھی داستاں ہی کہیں ہو کے رہ جاؤں

پائندگی پاؤںتابندگی چاہے پاؤں یا پاؤں نہیں

اے مری صندلیں ساحرہ!جس طرح وہ بھی رومانوی داستاں تو نہ تھی،

یہ بھی ویسی ہی بس محض رومانوی داستاں تو نہیں ہے جسے میں سناتا رہوںان زمیں زاد، مکروں، فسادوں، فریبوں بھرے ،

ان تماشائی لوگوں کوپھر بھی ترے واسطے کچھ محبت پرونے کی کوشش تو کی

چند نوحوں کےاور چند بَینوں کے سنگ

اس کو منظور کرجو بھی جیسا بھی تھا

بین تھے، آرزوؤں کی لاشیں تھیں،میت تھی، قبریں مزارات تھے

میں نے لفظوں کی مالا میں سارے کے سارے پرو کرترے پاؤں میں لا دھرے ساحرہ!

ایک بے چین شاعر سےتو نے امیدیں لگائیں تو کیوں

اب یہ آزار تن پر پہناور مرے ساتھ چل

میں جنھیں کتنے جنموں سے پہنے ہوئےاک مسافت میں ہوں

اک عجب ہی سفر ہے مری ساحرہ!کچھ خبر ہی نہیں کس طرف جا رہا ہوں

یہی جانتا ہوںکسی بھی گلی سے چلوں

اور کسی بھی سڑک سے،کسی راہ سے بھی نکل لوں

تو آگے فنا کی ہی منزل مری منتظر ہےمری ساحرہ!

تو فنا سے جو پہلے جدا ہونا چاہے تو آزاد ہےپر بقا میں جدائی گوارہ نہیں

اک یقیں تو رہےکہ میں اب بے سہارا نہیں

اب جدائی کا یارا نہیں***********

ساحرہ!میرے باطن میں گھلنے سوا

کچھ بھی آتا ہے کیا؟ساحرہ!

آنکھ تیری محبت میں جب آسمانوں کی جانب اٹھے تو دعائیںدعائیں جو تو بھیجتی ہے نمازوں کے بعد

اوروظائف و اوراد کے بعدوہ سبز شالوں کو اوڑھے ہوئے سب کی سب

جان! مقبولیت کی طرف اڑتے اڑتےدکھائی جو دیتی ہیں تو

آنکھ میں کتنے پاکیزگی کے کئی رنگ گھلتے ہیں۔۔۔تو جانتی ہے؟ بتا!

ہم ترے واسطے رات کو کچھ نہیں جانتےدن کو کچھ بھی سمجھتے نہیں

انتظاری بھی کتنی کٹھن ہےکہ تو آئے گی تو تجھے

بازوؤں کے پنگھوڑے میں ڈالیں گےبچوں کی مانند جھولا جھلائیں گے

اور لوریاں دیں گےان لوریوں میں محبت پرو کر

تری روح کے کونے کونے میں ایسے اتاریں گےتیرے بدن کو نکھاریں گے

اور کائناتوں کو تیرے ہی صدقے میں واریں گےسینے لگائیں گے

دکھ بھول جائیں گےسارے کے سارے

مجھے چاہئیں بس ستارےجو تیرے لبوں سے نکل کر

مری روح میں ایک بستی بسانے کوہر پل چمکنے دمکنے کو تیار ہوں

اے مری ساحرہ!تو کہاں سے چلی آئی ہے

ایک مدت کہاں تھیکہ اب میری آشفتہ حالی پہ رب نے کرم کی جو برسات کی ہے

وہ تیری ہی آمد کی سوغات ہےاے مری ساحرہ!

***********تیرے بالوں کے گچھے میں

چاہت محبت کے رنگوں ڈھلیایک معصوم چڑیا کا اک گھونسلہ

اب بھی آباد ہےاے میری ساحرہ

***********ساحرہ !

کب ہوائیں چلیںجب کبھی تو نے بالوں کو کھولا

تبھی تو نے جب اپنے بالوں کو آدھا ہی کھولاتو خوشبو ملی۔

آ ملی ،رچ گئی،

گھل گئی ہے ہواؤں میںتیرے نگر سے چلی

میری بستی میں آئی تومیرے ہی سینے لگی

ساحرہ!صندلیں ساحرہ!

کیا غضب حسن کا بانکپن بھیجتی ہےفضاؤں کے ہاتھوں

صدا بھیجتی ہے، ہواؤں کے ہاتھوںہوا بھیجتی ہے، وسیلے سے زلفوں کے

الفاظ بھی بھیج دے!اب محبت کے امرت میں سارے بھگو کر

تو آنکھوں پہ مل لوںلبوں پہ سجا لوں

گلابی سی آنکھوں سے کیا دیکھتی ہےتجھے کچھ خبر ہے ؟

کہ سارا جہاں ہی گلابی ہوا پھر رہا ہےتری لال مخمور آنکھوں میں محصور ہو کر

کسی پھول کی طرح کملا گیا ہےمری ساحرہ!

اپنی بانہیں ذرا دیر وا کر!کہ میں اس زمانے کی ویرانیوں میں

بسا ایک اپنا ہی گھر دیکھ لوںاپنے رخ سے پریشان زلفیں ہٹا!

تجھ کو جی بھر کے بس اک نظر دیکھ لوں۔۔***********

اے مری زندگی کی ریاضت!کہیں زائچوں میں لکھا تھا کہ ہم یوں ملیں گے

کبھی نا کبھیاور کہیں نا کہیں

یوں اچانک نصیبوں کا رستہ بدلنا،ستاروں کا تکنا ہمیں،

مسکراناتو مسکا کے چندا سے کہنا

یہ کہنا کہ دیکھو یہ دو جسمصندل کی مہکار روحوں میں لے کر جیے

اک یہاںاک وہاں

کتنی میلوں کی دوری رہیایک دوجے سے

کتنے رہے بے خبرپھر بھی محسوس کرتے رہے

اور چلتے رہے اک مہک کے تعاقب میںاور پھر کہاں سے کہاں آ ملے راستے۔

راستے مل گئے،کھل گئے پھول صحرائی، ویران، افسردہ بے چین جیون میں

ایسے لگا کہ محبت کی دیوی سہاگن ہوئی ہےمحبت کے اوتار نے مانگ میں بھر دیے ہیں کئی پھول

لاموت سے پھولاور وہ جو مہکار کھوئی ہوئی تھی کئی سال سے

ایک پل میں اچانک ملی ہوکھِلی ہو کلی زندگانی کی اجڑی ہوئی ایک ویراں گزرگاہ پر

چاند سنتا بڑے غور سے پریم کی یہ کتھااور پھر چاندنی کو لٹاٹا ہمارے لیے

اور دعائیں ہمیں بھیجتے سب سحاب اور تارے،نظارے سبھی کہکشائیں

ہمیں دیکھ کر پیار کے دائرے بھی بناتے،دائرے بھی بنانشانی لگاتے،

وہ دنیا بناتے ہمارے لیےجس میں ہم

یعنی میں اور تم ساحرہ!صندلیں ساحرہ!

ایسا جیون بتانے کو جائیںجہاں بس زوال محبت نہیں ہو

نمودِ قدورت نہیں ہوفقط بانسری گونجتی ہو

محبت کے خوشبو بھرے گیت گائیں ہوائیںچرند و پرند و شجر۔

اور خوشبو وہ خوشبو ہمیں جو یہاں لائی ہےاس نے اب کے سدا کے لیے جوڑ ڈالا ہمیں ساحرہ!

اے مری زندگی کی ریاضت مری ساحرہ!***********

ساحرہ!وقت سچا ہے اپنی جگہ

کچھ نہیں چھوڑتانقش بھی،

خاک بھی،راکھ بھی

اور ہم تم جو ہیں وقت کے ہاتھ میں جیسے کٹھ پتلیاں ہیںملن کا بھی اک وقت ہے

اور جدائی کا بھیاور محبت کا کیا وقت ہو گا؟

محبت کا شاید کوئی وقت ہے ہی نہیںیہ تو ہر وقت ہے

یہ تو بر وقت ہےاور محبت تو محتاج ہوتی نہیں ہے

کبھی بخت کینا کبھی وقت کی

ساحرہ میں تو ایمان لایا تری اس محبت پہ جومجھ کو صدیوں سے تکتی رہی تھی زمین و زماں سے پرے

تیری خوشبو پہ ایمان لایا کہ جومجھ کو محصور کر ہی چکی آخرِ کار

ایمان لایا تری ان پریشانیوں پہکہ جو میرے بیدار ہو کر

کہیں دور کھو جانے پر تجھ کو لاحق ہوئیںتیری بے چینی اور بے قراری پہ ایمان لایا کہ جو تجھ میں ٹھہری رہی

میرے برباد ہونٹوں کے باعثتری سرخ آنکھوں پہ ایمان لایا ہوں میں جو کہ تھکتی نہیں ہیں

مجھے دیکھتے دیکھتے،دل کی شادابیوں سنگ بھی اشک روتے ہوئے

تیری بانہوں پہ ایمان لایا کہ جن میں مرا مضطرب،ادھ مرا، نیم جاں یہ بدن زندگی کی رمق پا گیا

دل چمک پا گیامیرا احساس بھی وہ مہک پا گیا

جس سے بچھڑا ہوا تھا زمانوں سے میں اور تو بھی مری ساحرہ!دیکھ میں تجھ پہ ایمان لایا ہوں ویسے ہی جیسے کہ تُو

مجھ پہ ایمان لائیمری زندگانی ،

مری مشکلوں اور آسانیوں پر،مرے چاہنے والوں پر،

اور مرے عیبوں اور خوبیوں پر۔سو آ !

آ مری ساحرہ وقت کا مِل کے انکار کر دیںاسے مل کے جھٹلا دیں تاکہ

ملن اور جدائی کے اوقات کے سامنے اپنا سر نہ جھکانا پڑےہم محبت سدا کے لیے اپنی روحوں کے اندر اتاریں

اور اک دوسرے کے گلے سے لگیںاور ایمان لائیں بقائے محبت پہ ہم

اور ہمیشہ امر ہوںمری صندلیں ساحرہ!

***********خواب کیسے بھی ہوں ساحرہ!

یہ تو ہجراں کی ماری ہوئیسرخ آنکھوں کا کچھ بھی نہیں چھوڑتے

اور غم کے مسافر جو ہوںکب بھلا خواب ان کے سہانے ہوئے

چاہے کتنے بھی ہوںخواب میں دیو قد چین ، آدم نما گر جو دیکھیں

تو تعبیر میں دکھ ملیں۔۔خواب میں لال پریاں جو دیکھیں

تو کتنی شبیں آنکھ رو رو گزارےکبھی شاہزادہ کوئی شاہزادی کو لینے چلا آئے

یاایک گڈے کی گڈی سے شادی کراتی ہوئی

ایک بچی کی مسکانخوابوں میں گر راستہ بھول آئے کبھی،

تو مری ساحرہ تم کو معلوم ہےاس کی تعبیر میں کتنی رسوائیوں کے بھنور دیکھنے پڑتے ہیں

خواب آنکھوں کی درگت بناتے ہوئے کچھ نہیں سوچتےچاہے جیسے بھی ہوں

اور بھیانک اگر ہوںتو پھر ان کی تعبیر سے کیسی امید ۔۔؟

اے میرے خوابوں کی دنیا میں گم ساحرہ !آنکھ تھکتی نہیں

آنکھ خوابوں سے تھکتی نہیںخواب، لیکن تمہارے ہی ہوں

چاہے کیسے بھی ہوںایک مدت ہوئی خوشبوؤں کے سفر پر چلے تھے

تو خوابوں کے کتنے محل ہم بناتے گئےہم نے سوچا نہ تھا

ہم نے ہر گز یہ سوچا نہ تھاان کی تعبیر تکلیف دیتی رہے گی سدا

ہم اگر سوچتے بھی تو پھر بھی کبھی باز آتے نہیںآنکھ کے پھوٹنے کا کوئی خوف بھی تو نہیں تھا ہمیں

چاہے ہم جانتے تھے کہیہ خواب آنکھوں کا کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے

اب یہ عالم ہے ہم بس اسی کو عقیدہ سمجھتے ہیںخوابوں کی تعبیر

غم کے مسافر جو ہوںان کے خوابوں کی تعبیر

دوزخ کی بھٹی میں پیہم جلا کر یہاں بھیج دی جاتی ہےچاہے جیسے بھی ہوں،

خوابآنکھوں کا کچھ بھی نہیں چھوڑتے ۔۔

***********ساحرہ!

بھوک کتنی بھیانک ہوا کرتی ہےمیری معصوم اے صندلیں، باؤلی ساحرہ!

ضبط کی کوئی حد بھی اگر ہو تو شایداسے موت کہنا بجا ہے

بھلا کس لیے بھوک کی موت مرتے ہوئے لوگ،دنیا میں موجود ان نعمتوں کو مقدر میں لکھوا کے لاتے نہیں؟

خودکشی جن کو آسان لگتی ہواور زندگی کی مسافت کٹھن

اور سنا ہے مقدر تو خود اپنی مرضی کا لکھا ہوا ہو تو سکتا نہیںایسا ہوتا اگر

تو مری ساحرہ!ہر کوئی کائناتوں کی تقسیم کو لا پٹختا زمیں پر

یہ انساں قیامت کا خود غرض اور لالچی۔بھوک بھی تو عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہے

اور عذاب آئیں توآسماں سے اترتی بلائیں یہ کب دیکھتی ہیں کہ کس کا

جنم اپنی مرضی مطابق ہوامیں نے سڑکوں پہ

لاھور کی اور گجرات کی،کتنی سڑکوں کے فٹ پاتھ پر

نیم جاں، ادھ مرے اور ہڈوں کا مجسمہ بنےلاکھ ننگے بدن رینگتے جب بھی دیکھے

تو ایسا لگاجیسے مجھ پر وہی بھوک کا سا عذاب آ گیا ہو

بھلا ایسے لوگوں کو کیسی تسلی،بھلا کیا دلاسہ؟

اور ان کے وہ دھولوں اٹے جسم کی قدر و قیمت بھی کیا؟یہ جنم بھی،

مری ساحرہ!جس طرح سے عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہو۔۔

***********ساحرہ !

موت اور بین،اور بین میں

اف۔۔۔ بلا کی وہ آہیں۔۔۔اور آہوں میں مدفون اک زندگی۔۔۔

لاش اک زندگی کی گواہی سناتی ہوئی،ایسی چپ،

ایسی خاموش۔اور بین

اور بین بھی اک طرح کے نہیںسو طرح کے عجب

بوڑھیوں کے الگدوشیزاؤں کے اپنے الگ

لڑکیوں اور لڑکوں کے اپنی طرح کے الگاور بچوں کے بالکل الگ

بین تو بین ہوتے ہیںآہوں بھرے،

اور کراہوں سجے۔۔۔اف وہ بڑھیا

جواں سال بیٹے کی میت پہ بے حال ہو کر تڑپتی ہوئیکہہ رہی تھی

خدا۔۔او خدا!

تو زمیں پر اترکائناتوں سے نظریں ہٹا

اپنی مصروفیت چھوڑ اور اب ادھر دیکھ لےتیرے مٹی کے پتلوں نے

ظالم درندوں نے کیا کر دیااو خدا!

تیری دنیا میں، اور بادشاہی میں تیری ،مرے منتوں اور مرادوں سے جنمے ہوئے لعل کے خون سے

ہولیاں کھیل کراُن کلیجوں میں ٹھنڈک پڑی ہے

او سامع!مری آہ تجھ تک بتا کیوں پہنچتی نہیں ہے؟

او قہار!کیوں قہر بس اک مری کوکھ پر ہی ؟

او جبار!کیا جبر بس میرے لاڈوں پلے لعل کے واسطے تھا؟

او مالک!او خالق!

او باری!او قادر!

تری بادشاہی میں تیرے بنائے ہوئےچند مٹی کے ظالم درندوں نے

تجھ سے ہی مانگی ہوئی میری معصوم منت کا خوں کر دیااو خدا!

اور بس میں نے اتنا سنا ساحرہ !پھر وہ بڑھیا

بہت سال کومے کی حالت میں خاموشچپ ، بے صدا بین کرتی رہی

اور پھر چل بسی۔۔۔ساحرہ!

ساحرہ!اور مری صندلیں ساحرہ !

مجھ کو آغوش میں اب چھپااس قدر چھید ہیں

جو کہ اب تک بھرے ہی نہیںاس سماعت کے پردے میں

اب بھی بہت زخم ہیں جو کہ اب تکسلے ہی نہیں۔۔۔

ساحرہ اپنی خوشبو سنااپنی باتیں دکھا

اب یہی وقت ہےلمحہ لمحہ یہ مجھ اک بکھرتی ہوئی ریت کو۔

جس قدر بچ گیااپنے دامن میں لے

اور محفوظ کر لےمجھے اپنی خاطر کہیں

اے مری صابرہ، سا حرہ!***********

تو نہ آتی اگرتو یہ جیون،

یہ سلگا ہوا میرا جیون ابھی کے ابھیراکھ ہونے کو تھا

بس یہ بجھنے کو تھااور تُو ساحرہ!

میرے بے جان جیون میںایسے چلی آئی ہے

جیسے اندھیار نگری میں اک روشنی کی کرنجیسے صحراؤں میں تیز برسات،

تڑپی ہوئی آنکھ کو چین کی نینداور نیند میں جیسے خوابِ بہشت و بہاراں

مری ساحرہ!دیکھ یہ تیرے آنے سے

دکھ مجھ سے ناراض ہونے لگےلے اڑی ہے مجھے یہ ہوا

جو مجھے اک زمانے سے چھوتی نہ تھیچھو بھی لیتی تو

ناراض رہتیاداسی کے کتنے تمانچے لگاتی مجھے

دیکھ یہ تیرے آنے سے کیسے مجھے لے اڑیہنس کے سینے لگی

اور میں پنچھیوں کی طرحتیری پاکیزہ چاہت کے پَر کھول کر

کتنا آزاد اڑنے لگا۔۔جب تری بات گونجے مرے ذہن کے گنبدوں میں

تو ہنسنے لگوںتیری خوشبو مجھے گھیر لے راستوں میں

تو تیرے خیالوں میں بیٹھا رہوں،اس جگہ۔۔

تیری معصوم مسکان دم دم دعائیں اگلتی ہوئیاک طرف سے چلی آئے

اور میرے سینے لگے تومیں کھویا رہوں

ان دعاؤں کی میٹھی سی تاثیر میں۔اور خود کو کروں قید ،

تیرے لبوں پہ سجی دھیمی مسکان کی نرم زنجیر میںساحرہ!

تیری خوشبو سدایونہی آباد رکھے خدا

میں جسے ڈھونڈتے ڈھوندتےدر بدر ہوتے ہوتے

کٹا اور پھٹا یہ بدن لے کے آخرترے در تلک آن پہنچا

کہ تُو ہے دکھوں کی دوااے مری روح سے لمحہ لمحہ نکلتی ہوئی اک دعا

اے مری ساحرہ!***********

اک ملاقات کاحال احوال تجھ کو سنانا نہیں تھا مگر

میں سناتے ہوئے ہچکچایا نہیںتو یہ سمجھا کہ تجھ سے چھپانا بھی کیا

لوگ ہنستے رہےلوگ حالت پہ ہنستے رہے

اک مصیبت زدہ شخص کی دھڑکنوں کی شکستہ سی دھن پربہت دیر ہنستے رہے۔۔

جانے کیوں،وقت چہرے پہ اتنے تمانچے لگائے بنا بیت جاتا نہیں

جانے کیوںوقت کنجوس ، بے چارہ ، مجبور ہے

(ایسا میں نے نہیں ۔۔۔ اور اک نے کہا تھا)مگر وقت کنجوس ہے

تھوڑے دل والا ،پل بھر کی مہلت بھی دیتا نہیں

پر مجھے اس کی بے چارگی کے متعلق بتا، ساحرہ!اور مجبور کیسا ؟

مری ساحرہ!تو بھی اس سے ملی

جس کے چہرے پہ کتنے تمانچوں کے اتنے نشاں تھےاِسی ایک بے رحم سے وقت کے

آج میں بھی ملااس سے کھل کر ملا

ساحرہ! اب وہ ویسا پریشان رہتا نہیںمضطرب اور بے چین رہتا نہیں

وہ اداسی سے ملتا نہیںنا سپاسی کو سینے لگاتا نہیں

اب کسی کو بلاتا نہیں۔۔اس نے مجھ سے کہا

ساحرہ کے سوااب کسی سے بھی ملتا نہیں

اور کسی سے نہ ملنے سے اس کےسبھی زخم بھرنے لگے

چین ، سکھ اور خوشی جن سے وہ اک زمانے سے محروم تھاسب کا سب اس کو ملنے لگا

ساحرہ!تو محبت کی کن وادیوں سے چلی آئی ہے

اپنی آنکھوں میں چاہت کے تارے لیےاپنے ہاتھوں میں مہکے سہارے لیے

اے پرستان کی ملکہِ عالیہ!اس سے پہلے کبھی جب میں اس سے ملا

ہاں! اسی بے قراری کے مارے ہوئے، غمزدہ شخص سےتو وہ آنسو بہائے بنا کوئی بھی بات کرتا نہیں تھا

اگر لب ہلاتا تو لگتاابھی کے ابھی کوئی ماتم بپا ہونے والا ہے

گر سانس لیتا،فضا میں گھٹن بڑھتی جاتی

جہاں بھی نگاہیں جماتا توہر وہ جگہسخت کڑوے سے لہجے میں کہتی

او کمبخت نظریں ہٹا!نا مرادی سے بھر پور نظریں ہماری طرف سے ہٹا!

ساحرہ !اس کے الفاظ بس بین ہی بین ہوتے

اور اب تو وہ بالکل بھی ویسا نہیںاب جہاں بیٹھتا ہے تو

ہر وہ جگہ اس سے کہتی ہےلجپال!

چاہت کی وادی سے تشریف لائی ہوئیاس پرستان کی ملکہِ عالیہ ساحرہ کو بلا لے

ہوائیں بھی صندل کے مہکے ہوئے جنگلوں سےچرا لاتی ہیں ،

خوشبوئیںاس کے چہرے کو چھوتی ہیں ،

کر کے نچھاور گزرتی ہیں خود کوکہ جس سے مہکتا ہے ، تن اور بدن

اور صندل کی مہکاراک آگ بھڑکانے لگتی ہے جذبات میں

اب وہ بولے تو لگتا ہے شیرینوں کا سمندر بہا ہےنگاہیں اٹھائے تو سارے نظارے ترستے ہیں

اس کی نگاہوں میں محصور ہونے کی خاطر۔۔مری صندلیں !

ساحرہ!اب وہ ویسا نہیں

تیرے سے ملنے سے پہلے تھا جیسا کبھیساحرہ !

آج میں زین سے مل کے آیاتو اچھا لگا

اور اگر اب دوبارہ وہ تجھ سے ملے تواداسی کا اس سے

کوئی تذکرہ پھر نہ کرناوگرنہ

۔۔۔۔۔۔وگرنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وگرنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

***********مری ساحرہ رنگ روئیں

تو آنکھوں کی برسات تھمتی نہیںوادیاں سبز و شاداب رہنے سے تنگ آ گئیں ہوں تو پھر

جنگلوں میں بسیرا بھی کچھ منطقی تو نہیںاور کتابوں میں مدفون علم و ریاضت

تو صدیوں نچوڑی گئیاب تو لگتا ہے بس کھوکھلی رہ گئیں ہیں کتابیں سبھی

سب ہی تحریر ہے اور پھر بھی کوئی فیض باقی نہیںان کو جھاڑیں تو بس گرد ہی گرد اڑتی ہے

علم اب نکلتا نہیں۔۔ساحرہ!

شہر کے بارے میں تم نہیں جانتیمیری معصوم، بھولی، مری باؤلی!

شہر میں ایک گھر تھایہاں سے کوئی پندرہ میل آگے

وہ گھر جس میں ماں، بہن اک بھائی اور باپ تھاان کے ہاں اک درندہ صفت اور بیٹا بھی پلتا رہا

اور کیسا عجب وقت آیا کہ اس نےخود اپنی ہی ماں، بہن اور بھائی اور باپ کو

گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئےوہ تشدد کیا

اور اس پرورش کا صلہموت دے کر دیا

حیف صد حیف ہےاف۔۔۔

ساحرہ!اے مری زندگی کی سنہری چمک اور دمک!

چھوڑ، ہم کیا کریںسب کے اپنے گھروں کے مسائل ہوا کرتے ہیں

ہم بھلا کس لیے ٹانگ اڑاتے پھریںاور کیوں اپنا موڈ آف کرتے پھریں

کون سا ہم پہ ایسی قیامت کوئی ٹوٹی ہےجو کہ آنسو بہائیں

ہمیں سن کے افسوس جو ہو گیا ہےتو کافی نہیں؟

ساحرہ، چھوڑ !اب تو بھی افسردگی کی علامت نہ بن بیٹھ۔۔

میں تیری لاعلمیوں پر فدا اپنے جی جان سےتو ادھر دیکھ اور مسکرا

تا کہ میں اپنی افسردگی کو چھپانے میںکچھ اور بھی سرخرو ہو سکوں۔۔۔

***********راستے

ساحرہ!راستے اپنی مرضی کے مالک ہوا کرتے ہیں

اک طرحکیونکہ ہم تو انہیں اپنی مرضی مطابق

کہیں موڑ سکتے نہیں ہیں مگرساحرہ!

بعض اوقات رستے کئی دوسرے راستوں کےبہت گہرے ساتھی ہوا کرتے ہیں

ساتھ چلتے ہیں اک دوسرے کے بہت دور تکجو مسافر ہوا کرتے ہیں

ان کی رنجش انہیں بھی الگ کرتی جاتی ہے،اک دوسرے سے۔

جدائی کا صدمہ لیےچل نکلتے ہیں اک دوسرے کے مخالف

مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہےتھوڑی مسافت کے طے ہونے پر

پھر سے مل جاتے ہیںاور ایسا بھی ہوتا ہے

پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ ہی اک دوسرے سے جداسوگ میں ڈوب کر چلتے جاتے ہیں رکتے نہیں

راستے۔۔۔کیا کبھی تو نے کوئی اداسی سے بھرپور

رستہ کہیں پر بھی دیکھا نہیں ساحرہ!راستے پھر بھی مرضی کے مالک ہوا کرتے ہیں

اور اگر نہ بھی ہوںہم تو پھر بھی کبھی اپنی مرضی مطابق

انہیں موڑ سکتے نہیں۔۔بس بدل لیتے ہیں

اے مری ہمسفر ساحرہ!تُو کوئی راستہ ایسا چننا

کہ جس کو مرے راستوں سے عداوت نہ ہوان میں ذاتی کوئی دشمنی کوئی رنجش نہ ہو

خاص کر ان کے بختوں میں کالی جدائی نہ لکھی ہوئی ہومری ساحرہ!

صندلیں!اے مری ملکہِ عالیہ!

اب ذرا دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔***********

دیکھ کر سوچ،اور سوچ کر جان ،

جب جان لے تو سنااور سنانے میں دقت جو ہو تو

نگاہیں جھکاجب نگاہیں جھکا لے تو سن!

مسکرانے کی کوشش بھی کرساحرہ!

مسکرانے کی کوشش تو کرمیری آنکھوں گلابوں کی کلیوں پڑھنے کی جرات جو ہے تو ذرا

مسکرانے کی ہمت بھی کرتیری افسردگی،

میری افسردگی کو بڑھانے سوا کچھ بھی کرتی نہیںتیری نم آنکھ ،

میری ان آنکھوں کے بہتے سمندر میں دریا کی مانند آ گرتی ہےخشک ہوتی نہیں

تیرا دل،میرے صحرائی دل کو تسلی تو دیتا ہے برسات کی

پر وہ ساون کی رُت ہے کہ آتی نہیںکوئی بھولی ہوئی یاد آتی ہے بن بن کے بدلی

برستی نہیںاپنی زلفوں کو شانوں پہ بکھرا مگر ان کو لہرا نہیں

زخم سلتے نہیں ،نہ سلیں

ان کو سلگا نہیںجان!

آنکھیں ذرا ایک پل کو اٹھااور جی بھر کے باتیں سنا

پر لبوں کو ہلا تو نہیںپاس آنا نہیں

تو نہ آایسے آ کر مرا دل دکھا تو نہیں

ساحرہ!نیند آنکھوں سے لے جا مری،

خواب کی منڈیوں میں کہیںبیچ سستے ہی داموں مگر

اپنی بانہوں میں ڈالے ہوئے نیند کا ہارمیری پریشان راتوں میں آنے کی کوشش تو کر

ساحرہ!مسکرانے کی کوشش تو کر!

***********مسکرا اور پھر سوچ

پھر سوچ اور جان،جب جان لے تو دعا کے لیے ہاتھ اپنے اٹھا

جب اٹھا لے تو پھر سوچ!اور سوچتی جا۔۔

عبادت کے معنی نہ جب تک کھُلیںنہ ملیں جب تلک ان دعاؤں کی منزل کے رستے

ابھی تک جو پوری نہیں ہوسکیںسوچتی جا۔۔

بہت سوچ ۔۔۔اور سوچ کر دل کو تھپکا،

جگا اور اسے بولاٹھ!

اور جگا روح کواور ہاتھوں میں آ

جب یہ ہاتھوں میں آجائےپھر سوچ۔۔

ہر وہ دعا جو کہ نکلی تھی دل سے کہاں جا کے پہنچی بھلاکسی کے جانب وہ بھیجی تھی

اور کس کی جانب گئیاور یہ سوچ !

کس کو اگر بھیجتے تو وہ مقبول و منظور ہوتیتو پھر سوچ کر

اپنے ہاتھوں کی جانب نگاہیں لگاچار آنسو گرا

اور کچھ بھی نہیں سوچ۔۔۔پھر ہاتھ چہرے پہ مل

اور واپس چلی آکہ شاید سبھی ان دعاؤں کو آنکھوں کا پانی ہی سر سبز و شاداب کر دے

مری ساحرہ!کچھ نہیں سوچ

بس جان لے کہ عبادت کے معنیمحبت میں بہتے ہوئے چند آنسو ہی ہیں

راستے ہیں یہی۔اور آنسو سمندر سے گہرا ہوا کرتا ہے

اور آنسو بناروح دُھلتی نہیں

کعبہِ دل سنورتا، نکھرتا نہیںساحرہ!

اپنے ہاتھوں کو یونہی دعا میں اٹھا کر فقط اپنے الفاظ ضائع نہ کریہ مناجات ضائع نہ کر

کہ فقط ایک آنسو،عقیدت میں آنکھوں سے ٹپکا ہوا

لاکھ الفاظ سےاور مناجات سے

معتبر ہی ہوا کرتا ہے۔۔۔***********

ساحرہ!سوچ اور بول،

جب بول لے تو خموشی کی سن،کچھ سنائی اگر دے نہ پائے تو پھر بول،

پھر بھی خموشی ملے، جان!پھر سوچ

جب سوچ لے تو خموشی سناجب خموشی سنا لے تو سن !

کچھ سنا؟ہاں! یہی!

ہاںجی بالکل یہی!خامشی نے صداؤں کے اندر کی باتیں کہیں

خامشی نے وفاؤں کے بارے میں باریک باتیں کہیںخامشی نے دعاؤں کی پاکیزگی کے سبھی باب کھولے

مری ساحرہ!خامشی سوچ اور خامشی بول!

اور خامشی سن!میں اب خامشی کے کئی اور فیضان تجھ کو بتانے سے قاصر ہوں

جو کے فقط خامشی میں ہی کھل پائیں گےتو مری خامشی جان!

اور سوچ ۔۔پھر سوچ۔۔۔۔

اور خامشی سے مری خامشی میں چلی آمری خوش بیاں ساحرہ!

***********عشق بارے بتا؟

حالتِ ضعف میں بھی مری ساحرہ!اس کا سر ہے کہ جھکتا نہیں

یہ جھجھکتا نہیں ہےزمانے کے آگے

چھپاتا نہیں ہے یہ اپنے اسیروں کواور باز آتا نہیں عصمتیں رولنے سے

یہ ڈرتا نہیں سیدوں کو نچاتے ہوئےتھیا تھیا گواتے ہوئے

آبروئیں لٹاتے ہوئےکربلائیں مچاتے ہوئے

آزماتے ہوئےعشق مجبور ہوتا نہیں ہے مری ساحرہ!

تو نے کس عشق کی بات کی؟جو بہت چین کی نیند سوتا ہے؟

اور دیر سے جاگتا ہے؟یا پھر وہ جو آنکھوں کو نیندوں کا دشمن بنا کے رلاتا ہے شب بھر؟

ترے شہر میں عشق نامی وہ بوڑھا جو تھاہاتھ میں تھام کر

رنج و غم اور اداسی کی لاٹھیشب و روز گلیوں میں آوارگی کی علامت جو پھرتا

اسے تو نے دیکھا کبھی؟اور جو دیکھا ہے تو

تو نے اس عشق کی بات کی؟ہاں وہی عشق ،

ویسا ہی میری گلی میں بھی آتا ہے دن میں کئی باراور رات بھر تو مرے گھر کے آگے سے ہٹتا نہیں

میں نے ڈر کےکبھی رات کو اپنی کھڑکی سے جھانکا نہیں

ساحرہ!عشق سے جس قدر ہو نگاہیں بچا

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے سے بچاس کے چہرے کی جھریوں پہ، ضعف اور معصویت پر نہ جا

میں نے اس واسطے تجھ سے کچھ بھی چھپایا نہیںیوں نا ہو تُو کبھی سنسناتی ہواؤں کے ہاتھوں

یہ شکوہ مجھےبھیج دےکہ بتایا نہیں

ساحرہ!میرے کہنے نہ کہنے سے کچھ ہونے والا نہیں

عشق ہونے کو ہو تو یہ ٹلتا نہیںاور ہو جائے تو دل میں چین و سکوں اور پلتا نہیں

دل بہلتا نہیںدرد ڈھلتا نہیں

زور چلتا نہیںنیند راتوں سے ناراض ہو جاتی ہے

اور یہ عشق،بوڑھا ضعیف اور معصوم ظالم

جو ہر رات آنکھوں کو کھولے ہوئےسرد نظروں سے تکتا ہے

آنکھوں کو ملتا نہیںچاند چھپتا ہے

سورج نکلتا ہے پررات ڈھلتی نہیں

دن نکلتا نہیں***********

ساحرہ!رات بھاری رہی

جو کہ کٹتی نہیں تھی مگرپھر بھی کٹتی رہی

بے قراری رہیبے قراری ان آنکھوں پہ،

مجبور و مہجور آنکھوں پہ طاری رہیتیری آہیں گھلیں نم فضا میں

ہواؤں نے مجھ کو بتایا کہ تیری طرف سوگواری رہیرات بھاری رہی؟

اک محبت جو صدیوں سے بیوہ ہوئی،اس کی اولاد صدیوں سے یونہی کنواری رہی

ساحرہ!بم پھٹے !

کتنے لاشے کٹے،اور جنازے اٹھے

کتنی کوکھوں میں رنجیدگی چھید کرتی گئیکتنی بہنوں نے آنکھوں میں دریا اتارے سدا واسطے

اور اک اک سہاگن نے سکھ تج دیااور آزار و درد و الم اپنے بستر میں دیکھے جو بانہیں پسارے ہوئے،

خود کو ان کے حوالے کیا،آنسوؤں کے سبھی زیورات و جواہر تنوں پر سجا کر ہمیشہ ہمیشہ کی خاطر۔

مری ساحرہ!وہ حرامی درندے ، وہ خود کش ،

جو اسلام کے خیر خواہ بن کے انسانیت کو مٹانے کی خاطر چلے آئے ہیںاب تو الفاظ ملتے نہیں

ان کو کیا کچھ کہیں۔۔۔۔ لعنتییہ تو اسلام بالکل نہیں تھا

جو اسلام تھا وہ تو انسانیت کا ہی اک نام تھاساحرہ!

تم مبارک شبوں میں،دعائیں کرو تو مجھے مانگنے کی بجائے

خدا سے کہو!اے جہانوں کے مالک

رحیم و کریم اور رحمٰنرحمت کی چادر ہی لہراؤ

دل میں اب اور طاقت نہیں کہ اجڑتے ہوئےخاندانوں کی، ماں، بہن اور بیٹیوں اور سہاگوں کی آہ و بکا سن سکے

ساحرہ!دن بھی بھارا رہا۔۔۔

شام روتی تڑپتی رہی۔۔۔بے قراری رہی۔۔۔

رات بھاری رہی۔۔۔سوگواری رہی۔۔۔

آہ و زاری رہی۔۔۔۔***********

ساحرہ!رنگ پہنو تو آنکھوں سے کچھ بھی نہ کہنا

ستاروں سے باتیں کرو تو اماوس میں رونے تڑپنے کو تیار رہنااگر چاند کی خواہشیں کر چکو تو

چکوری سے اک بار ملنااسے کچھ نہ کہنا

نہ کچھ پوچھنااک نظر دیکھنا ۔۔

صرف اک ہی نظر۔۔یہ جو آنکھوں میں تیری سحابوں نے ڈیرہ لگایا ہوا ہے

یہ کن ساونوں کی بھلا دین ہیں؟تُو نے کتنی بہاروں سے وعدے کیے

اور کتنی خزاؤں کو چکمے دیے؟آرزو کا کفن اتنا میلا نہیں

جتنا میلا لگابین میت پہ ہوں تو بھلے بھی لگیں

ایسے بے چین موسم میںبے موت سے آدمی کے لیے

اس قدر غم سے لبریز دلپاش بینوں کا مطلب تو فہم و فراست سے بالا ہےاے ساحرہ!

دکھ درازوں ، کتابوں ، دیواروں اور ان کی دراڑوں سے، درزوں سےچھپ چھپ کے تکتے ہیں کیوں؟

سامنے آ کے سینے لگاتے نہیں کس لیے؟جان!

اس رنج و غم سے بھری نغمگی کا بتا کیا کروں؟زندگی کے کئی اور بھی راگ ہیں

صرف" تُوڑی" ہی کیوں ؟کوئی "ایمن" بھی ہو۔۔

بانجھ پھولوں سے کیسی امیدیں بھلا؟اور گلابوں کو سینے لگاتے ہوئے

خار چپ تو نہیں بیٹھتےخوشبوؤں سے بھری اے مری صندلیں ساحرہ!

مجھ پہ بیتے عذابوں کو رہنے دے اپنی جگہان میں آنے کی کوشش نہ کر

جس قدر رو لیاتو نے دیکھا نہیں

اب رلانے کی کوشش نہ کرمیری آنکھیں جو پتھر ہوئی ہیں

انہیں آزمانے کی کوشش نہ کردور جانے کی کوشش نہ کر!!!

***********روشنی کس بھلائی کی محتاج ہے

اور سائےتو بس روشنی ہی کے محتاج ہیںآسمانوں سے اترا ہوا نور

مٹی کی زینت بنے نا بنےجسم مٹی تو ہے

دل جلے نا جلےراکھ ہونا تو ہے

پیار کی آگ بھی کیا عجب آگ ہےروح سے جان و دل کو جلاتی ہے

سلگا کے رکھتی ہے جذباتاحساس سے جو دھواں

اک تعلق کی آنکھوں میں لگنے لگے تومری ساحرہ!

کچھ دکھائی بھی دیتا نہیںراہ ہوتی تو ہے

پر سجھائی ہی دیتا نہیںدل محبت کماتا تو ہے

اور کمائی بھی دیتا نہیںساحرہ !

صندلیں! آسمانوں سے اتری ہوئی نور!کیا تُو نے مجھ سائے کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے؟

سوچا ہے تو تجھے جان کر یہ اذیت تو ہو گیکہ سائے تو پل بھر کو ہوتے ہیں

اور وہ بھی محتاج ،یہ روشنی ایک پل کو جو روپوش ہو تو گئے یہ ابھی کے ابھی

ساحرہ یہ ترا اور مرا جسم مٹی کی خوارک تیرے مرے اور کس کام ہےپر تجھے روشنی ماننا اتنا آسان کب تھا

مجھے خود کو سایوں کی سنگت میں رہنا پڑااک ذرا دیر ڈھلنا پڑا

کچھ ابھرنا پڑااور پھر دیر تک یوں ڈھلے ہی تو رہنا پڑا

ساحرہ !کیا کبھی تُو نے خود کو ہی سایہ سا محسوس کرنے کی کوشش نہیں کی؟

نہیں نا سہی!اے مری روشنی!

مجھ کو منظور ہےپھر بھی مٹی کے جسموں کا انجام سے قبل کچھ تو کبھی سوچ

اے روشنی ساحرہ!***********

بے کلی کا چلن بھی اذیت سے بھر پور ہےاور اداسی کی رسمیں نبھاتے ہوئے

عمر گھائل ہوئے جا رہی ہےتوجہ کی توجیہہ بھی کچھ تو ہو گی

مگر شام بے رحم ہےمصلحت کی ڈلی

میں بھی منہ میں چبائے ہوئےرو دیا۔

رو دیا تو ہنسا ہی نہیںآبرو نے مجھے کس قدر طعنہ و طنز پہنائے

میں جن کو گلیوں میں لے لے پھراجب پھرا تو رکا ہی نہیں

آسمانوں کی تہذیب اپنی ہوا کرتی ہےاور زمیں کی ثقافت کے بارے میں اچھی طرح تو بھی واقف تو ہے

اے مری ساحرہ!اس زمیں پہ مسیحاؤں سے واسطہ جو پڑا

تو دوا میں مجھے اضطرابِ بلا گھول کر ہی پلایا گیامیرے زخموں پہ مرہم لگا کر دبا یا گیا

اور دکھایا گیااب جو میں سانس لیتا ہوں ،

چلتا ہوںہنستا بھی ہوں

(یعنی اب ٹھیک ہوں )مجھ کو آرام ایسے دلایا گیا

ساحرہ!آسمانوں پہ ویرانیاں ہوں نہ ہوں

میں زمینوں کے کتنے کھنڈر ہیں جنھیں چھان آیامگر آسمانوں کا کوئی مجھے راستہ بھی نہیں مل سکا

یہ بھی ممکن ہے شاید وہاںکی مسیحائی میں فرق ہو

چاہے آرام آئے نہ آئےمگر آسمانوں میں بستے ہوئے ان مسیحاؤں کے طور

بے رحم سے ان مسیحاؤں سےکچھ الگ ہی تو ہوں گے

مری ساحرہ!آ کسی آسماں کو تلاشیں

جہاں درد و آزار میں اور بیماریوں میںدوا میں محبت ملا کر پلاتے ہوں

مرہم میں پھولوں کی نرمی لگاتے ہوںآ اب مرے ہاتھ کو تھام لے

اے مری ہمسفر ساحرہ!***********

لوریاں دے رہی ہے کسے راتکون اس قدر چین کی نیند سونے کو تیار ہے

نیند کی خاصیت میری نظروں میں زیادہ نہیںخواب اپنی ہی مرضی مطابق دکھاتی ہے بس

یہ ہماری رضا کی ذرا سی بھی پرواہ کرتی نہیںساحرہ!

خواب زیادہ حسیں دیکھنے کے لیے جاگنے کی ریاضت ضروری ہوا کرتی ہےاور تعبیر ۔۔۔۔

تعبیر کے بارے میں تم سے کچھ بھی تو کہنے کے لائق نہیںمیں نے بس خواب دیکھے

ابھی تک جو پورے نہیں ہو سکےاور وہ خواب جو پورا ہونے کی خاطر مرے در پہ آئے

انہیں میں نے دیکھا نہیںمیں نے اک خواب پھر سے جو دیکھا ہے

وہ خواب بھی اپنی تعبیر سےجان! بچھڑا ہوا ہے

مگر خوبصورت کوئی شے بھی ہوخواب ہی ہوں بھلے

میں انہیں دیکھنے کے لیے اب بھی تیار ہوںاور اذیت تو یوں بھی مقدر رہی

اب قیامت گزرنے سے بھی فرق پڑتا نہیںاے مری ساحرہ!

اب تلک میں ترے خواب میں گمکہاں سے کہاں آگیا

جاگ !اور اپنے سینے لگا لے

زمانوں سے ہلکان ،اور اس تھکے ہارے انسان کو

اے مری شاہزادی!***********

بتا مختصر کیوں کروں؟تیری باتوں کی تفہیم اتنی کبھی مختصر تو نہیں تھی

تو اب کیا ہوا؟بولنے دے مجھے!

میری آواز پر چند لفظوں کی اتنی مذمّت پہ خاموش رہناکسی بزدلی سے تو کم ہی نہیں

میرے خوابوں کی قبروں میں مدفون اجسام کی روحاب بھی بھٹکنے سوا کچھ بھی کرتی نہیں

اور تعبیر کے جس قدر تھے کفنہر کفن کے جو کونے تھے

کونے سے نکلے ہوئے چند دھاگوں کی تندیں تھیسب آنسوؤں سے اپاہج تھیں

اور بین افبین پر بین

ماتمبکاؤں کی،

چیخوں کی آوازاور چند نوچے ہوئے سر کے بالوں کے گچھے،

عزاداریوں کے سمے،حسرتوں کے عجب سوگ میں

ساحرہ!رات سونے لگوں تو مجھے

ایسے لگتا ہے جیسے کسی قبر کے ساتھ لیٹا ہوا ہوںمیں کروٹ جو بدلوں تولگتا ہے

مدفون ڈھانچے نے سینے لگایا ہوا ہےاندھیرا

مری ساحرہاور اندھیرا

بھیانک سا احساس پہنےمری روح میں ایک نیزے کی مانند

پیوست ہوتا ہے ایسےکہ جیسے

مری روح کی روشنی چھین لینے کے درپے ہوا ہوزباں تیری باتوں کا مطلب نہیں جانتی

ذہن آوارگی کے سبب سوچنے سے بری ہےبقایا جو دل ہے مری ساحرہ!

وہ تو تُو نے نجانے کہاں منتقل کر دیااس بدن میں تو بس ایک ٹکڑا سا چبھتا ہے مدت سے

جیسے ابھی کے ابھی ٹھک سے ٹکرائے گااور تقسیم ہو جائے گا کرچیوں میں

مگر ساحرہ!یہ کہانی عجب سی نہیں ہے بھلا؟

جو بدن میں بکھر جائے گااس کے بارے بتا

اور جو تُو لے گئی اس کے بارے بتااور

جو تُو نے میرے حوالے کیا تھاذرا اس کے بارے بھی ارشاد کر

تیری آسان باتوں سے نکلے ہوئے کچھ مصائبجو میرے گلے ہیں پڑے

ان کا میں کیا کروں؟تیری باتوں کی تفہیم اب میرے بس میں نہیں

اور مرے خواب تکنا کہاں تیرے بس میں رہااب کے ایسا نہ ہو

تیری خوشبو یہاں سے بھی اٹھ جائےاور لمسِ خوشبو کہیں کوچ کر جائے

اس واسطےمیرے اندر کی قبروں میں مدفون رہنا

تجھے زیب دیتا نہیں !صندلیں ساحرہ!

***********اے گلابوں کی کلیوں میں آرام کرتی ہوئی

نرم گالوں کی لالی پہ اتراتی،ہنستی ہوئی،

ہنستے ہنستے ہی آنکھوں کو نم کرنے والیمری بے تحاشہ حسیں ساحرہ!

آ گلابوں کو میں قاف کی وادیوں سےیہ لالی بھری دونوں اکھیوں پہ لا کر دھروں

خواب خوشبو میں گھل گھل کے آئیں تجھےخواب آئیں تجھے

تو دکھائیں وہ وادیوہ وادی دکھائیں جہاں

بنسیا پہ پہاڑی کی دھن بج رہی ہوکوئی رانجھنا سر پہ باندھے ہوئے لاج کا ،

تیرے ہاتھوں بُنا ایک رومال،چاہت کی لے میں بجاتا رہے

بنسیا،بنسیا سے نکلتی ہوئی دھن تری جب سماعت کو چھو لے

تو مدہوشیوں کو ذرا ہوش آئےترے سامنے پربتوں کے مناظر

تجھے دیکھتے ہوںترے پیر چشمے کے پانی کو شیرینیاں بانٹنے میں ہوں مصروف

لال اور گلابی سے لب پریم کے گیت جڑتے رہےاور فضاؤں میں خوشبو لٹاتے رہیں

ساحرہ!تیری خاموشیوں پر سبھی کے سبھی لفظ قربان ہوں

تیری آواز پر خامشی حیرتوں کو نچھاور کرےسب چرند و پرند و شجر اور حجر ،

چاند، سورج، ستارےدن و رات، شام اور اک اک پہر

اک محبت میں گھل گھل کے ابھرے،نکھرتا رہے

اور گلیوں میں خوشیوں کی بارات کا آنا جانا رہےساحرہ!

خواب ایسے نہ ہوںخواب بالکل بھی ایسے نہ ہوں

جن کی تعبیر ایسی نہ ہوتلخ جیون میں ایسے سبھی خواب بھی تو اذیت سوا کچھ نہیں

ایک پل کو یہ آنکھیں سرابوں کی دنیا میں رہ کرحسیں اور خوشیوں کے خوابوں کی دنیا میں رہ کر

ذرا چین پائیں بھی توایک صدیوں تلک کی مسافت جو ہے

پھر اسی کے عذابوں سے رخ پھیر لینا کہاں اپنے بس میںمری ساحرہ!

اپنے خوابوں کو شب کے غلافوں میں رکھنا نہیں۔۔۔***********

لڑکیاں رحمتیں ہیںمری ساحرہ!

سوچ اور غور کررحمتوں کو جلاتے ہوئے ظالموں کے ذرا ہاتھ کانپے نہیں

غیرتیں اپنی آنکھوں پہ باندھے ہوئےاپنی ماں کی جنی

اپنی ہمشیر بہنوں کے نازک سے جسموں میںبندوق کی گولیوں سے کئی چھید کرتے ہوئے

ان درندوں کے دل میں ذرا رحم آیا نہیںساحرہ!

رحمتیں ہی تو غیرت ہوا کرتی ہیںاور کتے، یہ وحشی درندے،

یہ قاتل یہ خونیخدا جانے غیرت کسے جانتے ہیں

خود اپنے ہی بدبخت ہاتھوں سے غیرت کا خوں کرنے والےوہ رحمت کا خوں کرنے والے

یہاں اپنی غیرت بچاتے ہوئے پھر رہے ہیںمری ساحرہ!

یہ وہ دنیا نہیں جس میں تو نے مرے سنگ جینے کے خوابوں کو دیکھایہ دنیا وہ دنیا نہیں رہ سکی

جس میں جینے کی خاطریہاں میں نے

تیرے لیے سانس لیاور وہاں تو نے میرے لیے سانس لی۔۔

ساحرہ! میرے لہجے کی افسردگی تیرے کس کام کیچھوڑ!

آ دونوں مل کر تلاشیں کوئی اور دنیاجہاں خواب جیسی حقیقت کا

بس اک نظامِ محبت ہی رائج ہو،صدیوں سے اور آنے والے زمانوں میں بھی۔۔

ایسی دنیا کہیں چاہے ہو یا نہ ہوپھر بھی آ۔۔۔

آ کہ کچھ پل تری قربتوں میں کٹیںزیست الجھن ، گھٹن اور مصائب سے

پل بھر کو باہر تو آئےمری صندلیں ساحرہ!

***********تُو نے پھولوں کی لاشوں کو دیکھا کبھی؟

ساحرہ!بول دیکھا؟

نہیں؟میں نے دیکھا ہے!

معصوم کلیوں سے بھرپور نرم اور نازک سے پھولوں کی لاشوں کوپھولوں کی عمریں بتاؤں؟

کوئی 4 کا، 5کا اور کوئی صرف 6 سال کا پھول تھامدرسوں میں مذہب کی تعلیم پانے چلے آئے تھے

جن کے ماں باپ نے اپنے دارین کی نیکیوں کو کمانے کی خاطرخود اپنے ہی لخت جگر

مدرسوں میں جو بھیجے کہ یہ پھول محشر میں شاید وسیلہ بنیں بخششوں کامگر ساحرہ!

چند ملاؤں نے ،چند جاہل درندوں نے، ملاؤں نے

ایسے معصوم پھولوں کو روندازنا در زنا، جبر در جبر

اف ساحرہ!روح روتی رہی

سسکیاں لے کے روتی رہیایک وحشی درندے نے، مُلّا نے

مسجد میں، معصوم سے پھول کی آبرو چھین کرایک صف میں لپیٹا

وہیں لاش کو چھوڑ کر بھاگ نکلا۔۔۔۔مری ساحرہ!

یہ دھرم بیچنے والےتف ان پہ لعنت۔۔۔

کوئی دین ایسا نہیں کائناتوں میںانسانیت سے بڑا اور کوئی کہیں دین ہے ہی نہیں

اور اسلام انسانیت کا ہی سب سے بڑا دین ہےساحرہ!

ہاتھ اٹھا اور معصوم پھولوں کی خاطر خدا سے دعا کرانہیں اُس جہاں میں سدا کے لیے

چین آرام حاصل رہےان پہ رحمت رہے

ان پہ اکرام ہوجو یہاں ان کو حاصل نہیں ہو سکا

اور آمین کراپنے ہاتھوں کو چہرے پہ مل

اور آ ۔۔اور آگے چلیں۔۔۔۔

***********ساحرہ!

بچپنے کی کوئی بات بھولی نہیںیاد رہتا نہیں ہے جوانی کا سنگین تر واقعہ۔

اُس پہ بازار ہنستے تھےجب وہ کھلونوں کو حسرت سے تکتے ہوئے

اپنی آنکھوں میں پانی لیے ماں سے کہتاکہ مجھ کو وہی ریل گاڑی دلاؤ

فلاں کی دکاں میں پڑی ہےمجھے وہ دلاؤ

ابھی کے ابھیورنہ بک جائے گی

کوئی لے جائے گااور سسکی بھی لیتا

اور اپنی نگاہوں سےشفاف سچے محبت کے، غربت گزیدہ سے

آنسو بہاتاتو مجبور ماں اس سے کہتی

وہ اچھی نہیں ہےابھی لائیں گے کچھ ہی لمحوں میں چلتے ہوئے

ٹوٹ جائے گییا چلتے چلتے ٹھہر جائے گی

اس سے اچھی کہیں سے تلاشیں گےجب ہم کسی اور بازار میں جائیں گے

ساحرہ!بچپنے میں کوئی کتنا معصوم ہوتا ہے

تم جانتی ہودلاسے ، تسلی کا مطلب بھلا ایک بچے کو معلوم کیسے پڑے

اس کے آنسو کھلونوں سے مہنگے ہیں بلکہ یہ انمول ہیںپر اسے کیا خبر

ان کی قیمت کا اندازہ ہونے تلکسر کے بالوں میں چاندی اتر آتی ہے

اور چہرے پہ جھریوں کا نقشہ ابھر آتا ہے۔۔***********

ساحرہ!تو مجھے بھی ذرا ایک بچہ سمجھ

اور خود میں ذرا مامتا تو بسااور پھر فرض کر

میں ان آنکھوں میں آنسو لیےسسکیاں لیتے لیتے ترے پاس آ کر تجھے بولتا ہوں

کہ دے ذات کا محلبس اک مرے ہاتھ میں

دل کے مندر میں آرام کے واسطے سیج کوئی سجاروح مدت سے پیاسی ہے

اب دیکھ اپنی محبت کی برسات کراپنی آنکھوں کو میرے علاوہ کہیں اور ٹکنے نہ دے

دیکھ مجھ کومجھے دیکھ اور سوچ

اور ٹھیک سے سوچجب ٹھیک سے سوچ لے،

مجھ کو محسوس کراور محسوس کرتے ہوئے سب بھلا

کائناتوں کا زیر و زبراپنا گھر،

بام و درساری دنیا سے ہو بے خبر

صرف اور صرف ہو مجھ میں گمساحرہ!

او مری ساحرہ!کھول آنکھیں

ترا زین بچہ نہیں جو دلاسوں سے بہلےتسلی کو سینے لگائے

کہ تجھ میں ابھی مامتا کا وہ احساس جاگا نہیںاور پھر فرض کرنے سے

سچ کی بلی کون دےساحرہ!

اے مری صندلیں ساحرہ!***********

میرے الفاظ بھی کھوکھلے ہی تو تھےاور مری خامشی کی زباں میں یہ لکنت کہاں سے چلی آئی ہے

اے مری ساحرہ!خواب جنمے گئےہیں۔

مری آنکھ کی کوکھ نے تیرے خوابوں جنماتو آنکھوں کو ساون کی ہائے لگی

میری آنکھوں کو اولاد میں ڈھیر آنسو ملےقربتوں کی عنایات اس سے بھلی اور تھیں ہی نہیں

شاعری بھی نہ ہوتی اگرتو تجھے حال اپنا بتانا بھی ممکن نہ ہوتا

الگ بات ہے کہ مرے بن کہے تُو سمجھتی تو ہےمیری ہر بات

اور ذات کی سب سرنگوں سے واقف بھی ہےمیری آنکھوں میں خوابوں کی تعداد اتنی نہیں

جتنی تعداد میں آنسوؤں کی قطاریں بہا کرتی ہیںتیری یادوں کی موم اور اگر بتیاں

میری تنہائیوں میں جلیںمجھ کو ایسا لگے آنکھ بھی موم بتی کی مانند لمحہ بہ لمحہ پگھلتی ہے

اور اگربتی کے جیسا مہکتی ہےاور کھوکھلے میرے الفاظ ہی

اس سمے آسرا دینے لگتے ہیںاور خامشی اپنی لکنت زدہ سی زباں میں

تری بات کرتی ہےاے ساحرہ!

تیری باتیں کرےکوئی بھی تیری باتیں کرے

اس کے ہاتھوں کو چوموںگلے سے لگاؤں

سر آنکھوں پہ اس کو بٹھاؤںمیں قدموں تلے اس کے پلکیں بچھاؤں

بتاؤں اسےکہ مرے واسطے تُو ہے کیا!

میں دکھاؤں اسےدل میں تعمیر کردہ ترے واسطے چاہتوں کا محل

ساحرہ!لفظ جیسے بھی ہیں

کھوکھلے ہی سہیمیں نے وارفتگی میں ترے واسطے کہہ دیے

گر تری آتما کے دروں تک پہنچ جائیں توان کو سینے لگانا

فقط ان کو سننا نہیںاپنے دل میں ذرا سی جگہ بھی۔۔۔۔

مری ساحرہ!***********

ساحرہ!عشق وہ تو نہیں

جس کی تعریف ہم ان کتابوں میں پڑھتے رہےکچھ نے بولا کہ برباد ہونے کا اک دوسرا نام ہی عشق ہے

کچھ نے بولا کہ بس جذب و مستی،کسی نے کہا عشق ظالم ہے، مُلّا نا عالم ہے

اور کوئی کہتا ہے عشق مجازی ہی عشق حقیقی میں جانے کی بس اک کڑی ہےمری صندلیں ساحرہ!

میں نے اتنا ہی سمجھاوہی عشق ہے

جس کو لاگے وہی رمز جانےوگرنہ تو بحث و مباحث سے تو ہر کوئی اپنی اپنی فراست ہی جھاڑے ہے بس

ایک آوارہ انسان نے یہ کہا،کہ دعا کر کبھی عشق چھو کر نہ گزرے

مجھے ایک درویش نے یہ کہاکہ دعا کر فقط عشق ہی مانگ۔۔۔

اے ساحرہ!جانتی ہو کہ میں نے دعاؤں میں مانگا ہے کیا

عشق دینا تھا جس نے اسے مانگ کرپھر ترے در پہ واپس چلا آیا ہوں۔۔۔

***********ساحرہ!

میں نے یادوں کی ساری ریاضت تجھے سونپ دیلے سنبھال اب مجھے میرے الفاظ

سب کھوکھلے ہیں مگرجان لے

میں ہی ہوںمیرے لفظوں میں قبریں ہیں

ہر قبر میں کچھ نہ کچھ دفن میںایک میں میرا سر،

ایک میں دونوں بازو،کسی میں مرے پیر،

باقی بدن،ایک اک بال،

دل کا الگ ہی مزار اور سانسوں کا دربار الگسب کا سب میں نے تیرے حوالے کیا

مجھ کو امید ہے کہ مری یاد سےتُو ہی ہے جو وفائیں کرے گی ہمیشہ۔

یونہی غالیہ مُو چلی آئے گیاور ہر قبر پر تُو گلِ اشک برسائے گی

پھر مبارک سے لمحوں میںاور تیرے لب بھی ہلیں گے

مرے چین و آرام اور سکھ کی خاطروہی سکھ جو اب تک میسر نہیں آسکا تھا مجھے

وہ دلائے گی تُواور رب سے کہے گی۔۔۔

کہے گی۔۔۔۔نہیں جانتا کیا کہے گی!

مگر مجھ کو معلوم ہےمیرے حق میں رہیں گی دعائیں تری

ذات بھی بس مجھے کھوجتی ہی رہے گی سدااور مرے کھوکھلے جتنے الفاظ ہیں

تُو ہی سمجھے گی بستُو ہی جانے گی بس

تُو ہی مانے گی بسجیسے میں نے بھی چاہا نہیں کہ کوئی

ان کو سمجھے، یا جانے یا مانےفقط ایک تیرے سوا

اے مری نابغہ!ساحرہ!

***********طول دوں؟

کس لیے طول دوں؟اس کہانی کو پھر

میں کوئی اس قدر اہم کب تھاکہ اب ہونے لگ جاؤں

اے ساحرہ!لوگ باتیں کریں تو کریں

خواب مرتے ہیں مر جائیںدکھ ساتھ دے یا نہ دے

میں کہاں تک تری بات کرتا رہوںجنگلوں سے،

درختوں ، پہاڑوں سےاور کہکشاؤں سے

چاند اور تاروں سےاور آسماں سے تو کرنا نہ کرنا برابر ہی ہے

ساحرہ!پریم کی گتھیاں اتنی آسان ہوتی نہیں جتنی لگتی ہیں

تکنے میںاور ان کو کھولے بنا

یہ بھی ممکن نہیں کہ محبت میں آسودگی کی ذرا سی رمق مل سکےدل عمیق و فراواں محبت کا قائل رہا ہے سدا

اور پھر درد کی کون پروا کرےساحرہ!

آخری بار سینے لگانے کا مطلب پتا ہے تجھے؟آخری بار سننے سنانے

یا رونے رلانے کا مطلب نہیں جانتی؟آخری بار

ملنے یا مل کر بچھڑنے کی رسمیں ادا کرنا آساں نہیںآنسوؤں نے کہاں آخری بار بہنے کی کھائی قسم

آنکھ نے آخری بار تیری زیارت کی خواہش میں عمر ِ حزیں کاٹ دیتو نے دیکھا نہیں

تو نے مڑ کے بھی دیکھا نہیںیا یہ بھی ممکن ہے دیکھا ہی ہو

میں کہیں دیکھ پایا نہ ہوںتُو تو آئی ہے بس

اور گئی ہی نہیںتو گئی ہی نہیں ہے تو کیوں

پاس میرے نہیںساحرہ!

میرے سارے سوالوں پہ اب غور کرنے کی زیادہ ضرورت نہیںیہ تو بے چینیاں ہیں

یہ بے تابیاں جو کہ بس میں نے تیری طرف بھیج دیںخط کی صورت،

محبت کے خوشبو بھرے اک لفافے میںاب تُو پڑھے نہ پڑھے

پاس رکھے یا پھر پھینک دےاپنے سینے لگائے یا پھر آگ میں جھونک دے

یا اسی خط کو پڑھتے ہوئےاپنا جیون بتا دے

یہ سب تجھ پہ ہےاے مری پیار بھریے

مری عاقلہساحرہ!

***********دکھ، درندوں سے بڑھ کر کوئی چیز ہے

سکھ ہمیشہ ہی مظلوم بن کر ملا ہے مجھےتیری مجبوریاں

مجھ کو دکھ ہی لگیںاور تُو مجھ کو سکھ

ساحرہ!میں نے کم ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے

پتہ ہے؟دعائیں اگر آسمانوں سے بے فیض ہی لوٹ آئیں

تو اس سے بڑی اور کوئی قیامت نہیں ٹوٹتیروح پر

اور دل پربہت اچھی اور ڈھیر پیاری مری ساحرہ!

جب بھی اترا ، تری روح میںتو بلا کا سکوں پا لیا

تیرے جذبوں کو سمجھا تومیں نے محبت کا خود میں جنوں پا لیا

ساحرہ!تو نے پوچھا مجھے

جب زمانے گزر جائیں گےاور تو مجھ سے پوچھے گی اپنےہی بارے میں تو

کیا میں تب بھی کہوں گا کہہاں!

تُو مری ساحرہ ہی تو ہےساحرہ!

میں نے اپنے جنم سے بھی پہلے تلاشا تجھےتیری خوشبو تو بچپن میں دیتی رہی لوریاں

مجھ کو ہر رات میںاور دن میں، میں تیرے تعاقب میں پھرتا رہا

شہر میں،ہر گلی میں،

محلے میں،ہر چوک و بازار میں،

جنگلوں میں،ہواؤں سے پوچھا ترے بارے

اور میں نے دریا کناروں پہ آتی ہوئی ایک اک موج سےتیرے بارے میں پوچھا

عقیدوں میں،ساری مبارک شبوں میں،

عبادات میں بھی تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے عمر کاٹیتجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

میں نے کتنے مزارات پرآرزو کے دیے بھی جلائے

کبھی بھوک کا پیٹ چیرا،تجھے ڈھونڈنے کے لیے

مفلسوں کی پریشانیوں میں بھی جا کر تلاشا تجھےبم پھٹے اور لاشوں میں جا کر بھی دیکھا

اجڑتے سہاگوں میں، بیواؤں میں اور یتیموں میں بھیہر گھڑی، ہر سمے، سب گمانوں میں بھی اور یقینوں میں بھی

تجھ کو ڈھونڈا ہے سانپوں میں بھی ، آستینوں میں بھیمُندریوں میں بھی، چھلّوں میں بھی اور نگینوں میں بھی

اور مزدوروں کے جو بہے،ان کی مزدوریوں کے سمے،

ان پسینوں میں بھی۔دھوپ میں اور برسات میں

دن میں اور رات میںبات میں

بات کی بات میںذات میں

ذات کی رات میںاور اجالے میں بھی

میں نے تجھ کو ہی ڈھونڈا مری ساحرہ!وہ جو "لا" سے بہت پاک ہے

اس کو پانے کی خاطرتجھے ڈھونڈتا ہی رہا

اور اب یوں اچانک مجھے آ ملی ہےتو کہتی ہے

کیا تم کبھی مدتوں بعد مجھ سے کہو گے؟کہ

ہاں!تو مری ساحرہ ہے۔۔۔

مری صندلیں ساحرہ ہے ۔۔۔۔تو سن!

اب مجھے ڈھونڈاور ڈھونڈ لے تو

بہت سوچاور سوچ لے تو

مجھے جاناور جان لے تو

یقیں کرکہ یہ کوئی بھی داستاں تو نہیں تھی

جسے میں سناتا رہا تھازمیں زاد، مکروں، فریبوں بھرے

دوغلے ، بے حسی کے انہی رشتہ داروں کوسارے ہی لوگوں کو

جو ساحرہ ڈھونڈنا تو بہت دور ہےساحرہ کو ابھی تک سمجھ ہی نہیں پا رہے

جانتے ہی نہیںاور مانیں بھی کیسے؟؟

مری ساحرہ!تو ہمیشہ سے ہی اجلے دل اور اجلی ہی ارواح سے آ کے ملتی رہی ہے

ہمیشہ انہی کو ملے گیدلوں اور روحوں کی پاکیزگی کے بنا

تجھ کو پانا کسی طور ممکن نہیں۔۔۔۔۔حرفِ اول!

مری حرفِ آخر!جمیل و حسیں!

صندلیں ساحرہ!!!

— زین شکیل