19 اشعار

کلام کر

Kalaam kar

کلام کر

«کلام کر» زین شکیل کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کلام کر ! حسین شخص !دیکھ ! آسماں کے کان بھی لٹک گئے !

سماعتیں تری صدائے سبز کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں دیر سے !کلام کر ! اے مہ جبین شخص !

مجھ سے آج میرے گھر کی کھڑکیاں، دیوار و در یہ کہہ رہے ہیں !کوئی رمزِ ہجر آشکار کر نہیں رہا !

چلو ہزار بار نا سہی تو ایک بار کر نہیں رہا !کلام تیرا یار کر نہیں رہا !

کلام کر ! اے شہرِ قلب کے مکین شخص !تُو تو جانتا نہیں کہ تو نے اضطراب کا سکون کس قدر تباہ کر دیا !

سکوت کا جو حبس ہے ! اسی کو بے پناہ کر دیا !سفید گفتگو کا رنگ بھی سیاہ کر دیا !

کلام کر ! ذہین شخص !تُو نے ہی کبھی مجھے کہا تھا ! 'پُر یقین شخص'

دیکھ ! تیری چپ مرا یقین کھا گئی !یہی تو میرا آسماں ! مری زمین کھا گئی !

یہ میں / یہ میرا سب تو اک طرف !تری یہ چُپ تمام سامعین کھا گئی !

کلام کر ! اے بہتروں میں بہترین شخص !دیکھ ! میرا ضبط اب ہوا کی بد زبانیوں سے ٹوٹ جائے گا !

کوئی بھی سنگ اب مری صدا کے راستے میں آ گیا تو ٹوٹ جائے !سماعتوں کے پاؤں میں جو آبلہ ہے پھوٹ جائے گا !

یہ بد عقیدہ ! بے ایمان ! بد چلن ہوا بھی مجھ سے کہہ رہی ہے !اب مدھر صدا کی خوشبوئیں فضا میں گھولتا نہیں !

سُروں کو ٹولتا نہیں !جنوں کا بھید کھولتا نہیں !

سماعتیں بہت اداس ہو گئی ہیں زین !تیرا یار بولتا نہیں ؟

کلام کر !کہ اب تمام بد زباں صداؤں کو زوال ہو !

سماعتیں جو تیرے واسطے ترس گئی ہیں !ان کا دور اب ملال ہو !

جو ہو نہیں رہا ہے ! 'وہ' کمال ہو !کلام کر !

کہ اب تمام بے قراریوں کی خیر ہو !تمام ساعتوں کی آہ و زاریوں کی خیر ہو !

سماعتوں کی انتظاریوں کی خیر ہو !تری صدا کی پردہ داریوں کی خیر ہو !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں