11 اشعار

اداسی بین کرتی ہے

Udaasi bain karti hai

اداسی بین کرتی ہے

«اداسی بین کرتی ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

اداسی بین کرتی ہےمجھے تم یاد آتے ہو

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھیمجھے تم یاد آتے ہو

یہ نیناں روز روتے ہیںمجھے تم یاد آتے ہو

تمہیں واپس بلاتے ہیںمجھے تم یاد آتے ہو

مرے تم پاس ہو کر بھیمجھے تم یاد آتے ہو

بڑی بوجھل طبیعت ہےمجھے تم یاد آتے ہو

جدائی جان لیتی ہےمجھے تم یاد آتے ہو

مجھے ہنسنا نہیں آتامجھے تم یاد آتے ہو

مری ہر سانس کہتی ہےمجھے تم یاد آتے ہو

مجھے اتنا ستاتے ہومجھے تم یاد آتے ہو

مجھے کتنا رُلاتے ہومجھے تم یاد آتے ہو

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں