34 اشعار

تُو کہاں تھا

Tu kahan tha

تُو کہاں تھا

«تُو کہاں تھا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

تُو کہاں تھا؟کہ جب میں بُریدہ مقدر لیے تیرے در پر صدائیں لگاتا رہا۔

تیرا سائل سوالی رہا،تیرے سائل کا دستِ شکستہ ہمیشہ سے خالی رہا۔

تُو کہا تھا؟کہ جب مجھ پہ دیوار و در ہنس پڑے،

میری مجبوریاں یعنی میری کنیزیں مِرے ہی حرم میں تماشائی بن کر کھڑی رہ گئیں۔تیرے وعدوں بھری سب کتابیں کہیں دھول میں ہی پڑی رہ گئیں۔

میری سب آرزؤئیں دھری کی دھری رہ گئیں۔تُو کہاں تھا؟

کہ جب رونے والوں سے رویا گیا ہی نہیں تھا،اذیت کے مارے ہوئے سونے والوں سے سویا گیا ہی نہیں تھا۔

سبھی ہنسنے والوں نے ہنسنے کی ساری حدیں پار کیں۔دکھ توجہ سے ملنے لگیں تو بھلا کوئی کیسے نہ لے؟

دکھ توانائی دینے لگیں تو بھلا کوئی انکار کیسے کرے؟مجھ کو وہ دکھ ملے جن میں تیری توجہ کی تمثیل تک بھی نہ تھی۔

ان دکھوں نے تو میری توانائیاں چھین لیں،سب سکھوں سے شناسائیاں چھین لیں

وقت کی گود اتنی ملائم نہ تھی،جس میں سر رکھ کے ہم زندگی کاٹتے آئے ہیں۔

تو کہاں تھا؟کہ جب میرے ساون ترستے رہے،

میری آنکھوں کے بادل برستے رہے،بے بسی گیت گاتی رہی، تیری دوری ستاتی رہی،

چاندنی میری آنکھیں جلاتی رہی،یاد آتی رہی، تیری ہر بات مجھ کو رلاتی رہی۔

دل کی تختی پہ اک نام تیرا لکھا سو لکھا رہ گیاتُو نہ تھا پر تری انتظاری کا در تو کھلا رہ گیا

تُو نے روشن کیا تو ترے ہجر کی تیرگی کھا گئیتُو نے مڑ کر نہ دیکھا ترا دیپ جب سے بجھا رہ گیا

میرے جذبوں کی قیمت لگائی گئی تیرے بازار میںمیرے جذبات کوئی خسارے میں ہی بیچتا رہ گیا

میرے دامن میں، دنیا، نہ دولت، فقط چاک ہی چاک ہیںچاک ہی چاک ہیں، میرے دامن میں اب اور کیا رہ گیا

تیری عزت تری آبرو تیری چادر سدا سبز ہوتجھ سے میرا تعلق تو ہے چاہے اب نام کا رہ گیا

تُو کہاں تھا کہ جب میں نے تیری محبت کا ماتم کیابس اُسی دن سے میرے مقدر میں فرشِ عزا رہ گیا

تُو کہاں تھا کہ جب اتنی آزردگی بھر گئی روح میںاتنی افسردگی روح میں بھر گئی، اب خلا رہ گیا

شہر و بازار سے، دشت و کہسار سے، یار و اغیار سےتُو کہاں تھا کہ جب تیرا شاعر ترا پوچھتا رہ گیا۔۔

تُو کہاں تھا کہ جب دھوپ جھلسا رہی تھی مجھےگردشِ حال بھی کھا رہی تھی مجھے

اور تنہائی فرما رہی تھی مجھے"آ اداسی کی بانہوں میں آ...

بسترِ رنج پر اپنی راتیں بِتا۔۔فخر کر اپنی بربادیوں پر بھی

اور بین کر اپنی آزادیوں پر"کہ جب میں نے اپنے ہی ہونے کو جھٹلا دیا

اور کھونے کو بھی کچھ نہیں رہ گیاتب کسی درد مندی کے پیکر نے چھو کر مجھے روشنی بخش دی

میرے جذبات کو زندگی بخش دیمیرے لفظوں کو تابندگی بخش دی۔۔۔

تُو کہاں تھا کہ جب وہ محبت سے معمور،دل کا سمندر وہ شیریں سخن،

میرے ٹکڑے بہت دیر تک جوڑتا رہ گیا۔میں اپنا سبھی کچھ اُسی لے حوالے کیا۔

تُو نہیں تھا۔۔۔ کہیں بھی نہیں تھااگر اب تُو آئے بھی تو۔۔۔

تیرا آنا بھی کیا۔۔۔تُو اگر ہو بھی تو۔۔۔

تیرا ہونا بھی کیا۔۔۔تُو ندامت کے آنسو بہائے بھی تو

تیرا رونا بھی کیا۔۔۔اب میں اپنا نہیں۔۔۔ اب ترے واسطے

میرا ہونا بھی کیا۔۔۔

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں