7 اشعار

اے پرندے تو ہے اپنی آگ میں جلتا ہوا

Ae Parinde Tu Hai Apni Aag Mein Jalta Hua

اے پرندے تو ہے اپنی آگ میں جلتا ہوادور سے لیکن دھواں اٹھتا نظر آتا نہیں

ایسا لگتا ہے کہ ہیں شعلے فضا میں ہر طرفآسماں نیلا مگر دھندلا نظر آتا نہیں

کچھ پتا چلتا نہیں یہ سرد ہے کہ گرم ہےتیرے دل کی آگ کی لو سخت ہے کہ نرم ہے

کاٹتی ہے دل کے شیشے کو یہ ہیرے کی طرحجھلملاتی ہے سمندر میں جزیرے کی طرح

کشتیوں کے بادباں چلتے ہیں اس کو دیکھ کراور ستارے رات بھر جلتے ہیں اس کو دیکھ کر

پھول بھی شام و سحر ڈرتے نہیں اس آگ سےرقص کی اپنے بناتے ہیں وہ لے اس راگ سے

اے پرندے میں کسی دن پاس تیرے آؤں گااور تری جلتی ہوئی اس آگ میں جل جاؤں گا

— زیشان ساحل