6 اشعار

موت اور زندگی کی سرحد پر

Maut Aur Zindagi Ki Sarhad Par

موت اور زندگی کی سرحد پروہ کسی سے نہیں ملے لیکن

ان کے جانے کے بعد لوگوں نےپھول دیوار کے قریب رکھے

مشعلیں سیڑھیوں پہ روشن کیںایک موہوم سی امید میں گم

لڑکیوں کی سیاہ آنکھوں سےآنسوؤں کی قطار چلتی رہی

جانے والوں کے غم میں تیز ہواہر طرف سوگوار چلتی رہی

زندگی ان کے گھر کے رستے پرجانے کیوں بار بار چلتی رہی

— زیشان ساحل