6 اشعار

اے پرندو کسی شام اڑتے ہوئے

Ae parindo kisi shaam urte hue

اے پرندو کسی شام اڑتے ہوئےراستے میں اگر وہ نظر آئے تو

گیت بارش کا کوئی سنانا اسےاے ستارو یونہی جھلملاتے ہوئے

اس کا چہرہ دریچے میں آ جائے توبادلوں کو بلا کر دکھانا اسے

اے ہوا جب اسے نیند آنے لگےرات اپنے ٹھکانے پر جانے لگے

اس کے چہرے کو چھو کر جگانا اسےخواب سے جب وہ بے دار ہونے لگے

پھول بالوں میں اپنے پرونے لگےمیرے بارے میں کچھ نہ بتانا اسے

— زیشان ساحل