13 اشعار

تم سے مل کے

Tum se mil ke

تم سے مل کےزندگی اچھی لگی

دل کو لیکناس کا اندازہ نہیں

خواب سے باہر نکلنے کے لیےمیرے گھر میں کوئی دروازہ نہیں

ایک کھڑکی میں تمہاری یاد ہےاور اک دیوار پہ وہ آئینہ

جس میں تنہائی نظر آتی نہیںفریم میں تصویر

کوئی گیت دہراتی نہیںمیز پہ رکھی ہے

نظموں کی کتابپھول اک گلدان میں

خاموش ہیںصبح کے اخبار کی کوئی خبر

تم کہاں ہویہ بتا سکتی نہیں

تم جہاں ہو اب وہاں شایدمری آواز جا سکتی نہیں

ابر میں ڈوبے ستارےکیوں ہوا کو

شام کے رنگوں سے بھر سکتے نہیں؟کیا یہ سچ ہے

ہم خوشی ای میل کر سکتے نہیں؟

— زیشان ساحل