6 اشعار

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

Aisa lagta hai jaise poori hai

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہےیہ کہانی مگر ادھوری ہے

ہجر تو خیر اس کا لازم تھاوصل بھی اب بہت ضروری ہے

میری آنکھوں کے جرم میں شاملان نگاہوں کی بے قصوری ہے

یوں مرا تاج و تخت چھین لیاجیسے وہ شیر شاہ سوری ہے

ان دنوں اس کے سامنے دل کیجی حضوری ہی جی حضوری ہے

کس قدر شوخ کر دیا مجھ کوعشق مٹھو میاں کی چوری ہے

— زیشان ساحل