5 اشعار

چڑیا پانی پینے آئی لیکن کوئی بات نہ کی

Chidiya Pani Peene Aayi Lekin Koi Baat Nah Ki

چڑیا پانی پینے آئی لیکن کوئی بات نہ کیمیں اس کو اک لڑکی کی تصویر دکھانا چاہتا تھا

پاس بٹھا کر کوئی ادھورا گیت سنانا چاہتا تھااس کے پروں کو اپنے جیون پر پھیلانا چاہتا تھا

تھوڑی دیر کو دھرتی سے امبر پر جانا چاہتا تھاچڑیا پانی پینے آئی لیکن کوئی بات نہ کی

شام سے پہلے وہ بھی اپنے گھر کو جانا چاہتی تھیرنگ برنگے تنکوں سے اک خواب بنانا چاہتی تھی

چاند ستاروں کو سورج کو ہاتھ لگانا چاہتی تھیپانی پی کے وہ بھی اک بادل بن جانا چاہتی تھی

— زیشان ساحل