8 اشعار

ایک مور

Ek mor

ایک مور آئے گاآسمان سے شاید

حسن اور محبت کیداستان سے شاید

خواب اور اداسی کےاک جہان سے شاید

پھر وہ مور ناچے گادیر تک اکیلے میں

یاد کے جزیرے پرمیرے ساتھ میلے میں

خود کو بھول جائے گاشہر کے جھمیلے میں

صبح لوگ پوچھیں گےرات شور کیسا تھا

گھر کے ساتھ زینے پرایک مور کیسا تھا

— زیشان ساحل