8 اشعار

میں نے اک خواب اک لفافے میں

Main ne ek khwaab ek lifaafe mein

میں نے اک خواب اک لفافے میںتمہیں سب سے چھپا کے بھیجا تھا

اس کے ہمراہ ایک کاغذ پرکسی بادل کا سرمئی ٹکڑا

سرخ پھولوں کے ساتھ رکھا تھاوہ تمہیں کیوں نظر نہیں آیا

اپنے کمرے کی بند کھڑکی سےتم ستاروں کو دیکھ لیتی ہو

تیز بارش میں اک سمندر کےان کناروں کو دیکھ لیتی ہو

جو کسی کو نظر نہیں آتےجو کبھی اپنے گھر نہیں جاتے

ان پرندوں کو یاد کرتی ہووہ بھی اک خواب دیکھ سکتے ہیں

یہ تمہیں کیوں نہیں بتایا گیا

— زیشان ساحل