5 اشعار

اک صبح جب بہار تھی کمرے میں میز پہ

Ek Subah Jab Bahar Thi Kamre Mein Mez Pe

اک صبح جب بہار تھی کمرے میں میز پہپھولوں کے رنگ چائے کی خوشبو سے تیز تھے

کھڑکی سے آ رہی تھی کسی گیت کی صداٹھہری ہوئی تھی نیند میں ڈوبی ہوئی ہوا

رکھے ہوئے تھے تکیے کے نیچے تمہارے خوابپنچھی ابھی اڑے نہ تھے شاخوں پہ بول کے

دیکھا نہ تھا کسی نے بھی اخبار کھول کےجس میں تمہارے بارے میں کوئی خبر نہ تھی

تم دور اک ندی کے کنارے کے پاس تھیںوادی میں ایک سبز ستارے کے پاس تھیں

— زیشان ساحل