8 اشعار

اک عمر دل کے پاس رہا وہ مگر کہیں

Ek umr dil ke paas raha woh magar kaheen

اک عمر دل کے پاس رہا وہ مگر کہیںجب بھی ملا تو جیسے کہ کچھ جانتا نہیں

آنکھوں میں اک عجیب شناسائی تھی مگرگہرائیوں میں دل کی پذیرائی تھی مگر

دیکھا کچھ اس طرح سے کہ پہچانتا نہیںکچھ ہم سے آشنائی ہے یہ مانتا نہیں

میں نے کہا کہ تم سے ملاقات ہے بہتہر روز رسم و راہ مدارات ہے بہت

کہنے لگا کہ کوئی خلش ہے نگاہ میںحائل ہے فاصلہ کوئی برسوں کا راہ میں

محو سفر ہیں اور ابھی ہم سفر نہیںہم راہ دل کے دل ہے مگر رہ گزر نہیں

خوابوں میں صبح و شام ملے بھی اگر تو کیادو چار پھول دل میں کھلے بھی اگر تو کیا

جو کچھ دل و نگاہ نے چاہا وہ ہو گیایہ سوچا دل نے اور نگاہوں میں کھو گیا

— زیشان ساحل