8 اشعار

گڑھی میرا

Garhi mera

میں تھا اور پھول تھے اک گوشۂ تنہائی میںہم سے کچھ دور پرندے بھی تھے گہرائی میں

نیلگوں آسماں شفاف نظر آتا تھابہتا پانی بھی بہت صاف نظر آتا تھا

دھوپ تھی تیز مگر دل کو بھلی لگتی تھیوادیٔ سبز محبت کی گلی لگتی تھی

چادریں اوڑھے ہوئے لڑکیاں حیران سی تھیںمیرے ہمراہ وہ اک خواب پریشان سی تھیں

بات کرتے ہوئے ہنستے ہوئے ڈر جاتی تھیںسرخ پھولوں کے سمٹنے پہ بکھر جاتی تھیں

جسم سے دل کے تعلق کا حوالہ بھی نہ تھاکھوئی چیزوں کو کوئی ڈھونڈنے والا بھی نہ تھا

ہر طرف گزرے ہوئے وقت کی خاموشی تھییاد اک یاد نہ تھی صرف فراموشی تھی

ختم ہوتی ہوئی اک شام ادھوری تھی بہتزندگی سے یہ ملاقات ضروری تھی بہت

— زیشان ساحل