5 اشعار

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

Jo mere bas mein hai us se zyada kya karna

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرناسفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا

بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سےاب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا

جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کوتو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا

ترے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جبسو فکر ساغر و ساقی و بادہ کیا کرنا

تمام کشتیاں ساحل پہ ہیں ابھی ٹھہریابھی سے ان کو جلانے کا وعدہ کیا کرنا

— زیشان ساحل