8 اشعار

خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتا

Khuda gar hamein ek parinda banata

خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتاجہاں میں ہم اک آشیانہ بناتے

کسی سبز وادی میں اپنا نشیمنیا صحن چمن کو ٹھکانہ بناتے

کبھی اڑتے بادل میں ہوتا بسیراکبھی ڈالتے کنج وحشت میں ڈیرا

کبھی دامن کوہ ہوتا ہماراکبھی بنتا گھر اک ندی کا کنارا

کبھی گیت گاتے گھٹاؤں کے نیچےکبھی ہوتے پاگل ہواؤں کے پیچھے

فضاؤں میں ہم صبح سے شام کرتےاندھیرے سے پہلے زمیں پر اترتے

کوئی گلستاں ملک ہوتا ہماراہم اس کے لیے اک ترانہ بناتے

خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتااسے ہم پرندے خدا نہ بناتے

— زیشان ساحل