6 اشعار

تم اگر یہاں ہوتیں

Tum agar yahaan hotin

تم اگر یہاں ہوتیںہم کسی سواری میں

آسمان تک جاتےنیلگوں ستاروں پر

بادلوں کے رستے سےہر مکان تک جاتے

ساتھ میں ہواؤں کےبادبان تک جاتے

کشتیوں میں سو جاتےخواب بن کے کھو جاتے

ایک یاد ہو جاتے

— زیشان ساحل