8 اشعار

مری دوست اب تم

Meri dost ab tum

مری دوست اب تمجہاں ہو وہاں پر

نہ جانے ہواؤں کی رفتار کیا ہےستاروں سے آباد

رستوں میں حائلیہ بادل ہیں کیسے

یہ دیوار کیا ہےمحبت ہے آزاد

لیکن دلوں میںپرندوں کی طرح

گرفتار کیا ہےجہاں ہم ہیں شاید

وہاں روز و شب میںبس اک خواب ہے

اور افق پار کیا ہے

— زیشان ساحل