7 اشعار

سنا ہے میں نے کہ اب ستارے

Suna hai main ne keh ab sitare

سنا ہے میں نے کہ اب ستارےتمہاری دہلیز سے گزر کر

بکھرنے لگتے ہیں آسماں پرازل سے آباد اس جہاں پر

سنا ہے میں نے کہ کچھ پرندےہوا سے محروم بادباں پر

تمہاری آنکھوں کے سامنے سےگزر کے دن رات بیٹھتے ہیں

گلی میں فٹ پاتھ کے کنارےسنا ہے کچھ پھول کھل اٹھے ہیں

جنہیں کوئی توڑتا نہیں ہےسڑک پہ کچھ خواب ہیں ادھورے

جنہیں کوئی جوڑتا نہیں ہے

— زیشان ساحل