5 اشعار

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

Barson hue tum kahin nahin ho

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

«برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہوآج ایسا لگا یہیں کہیں ہو

محسوس ہوا کہ بات کی ہےاور بات بھی وہ جو دل نشیں ہو

امکان ہوا کہ وہم تھا سباظہار ہوا کہ تم یقیں ہو

اندازہ ہوا کہ رہ وہی ہےامید بڑھی کہ تم وہیں ہو

اب تک مرے نام سے ہے نسبتاب تک مرے شہر کے مکیں ہو

— زہرا نگاہ