5 اشعار

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

Basti mein kuch log nirale ab bhi hain

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

«بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیںدیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں

دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھےدیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں

دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھادیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں

دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیںاپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ہیں

تارے ماند ہوئے پر ذرے روشن ہیںمٹی میں آباد اجالے اب بھی ہیں

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں