نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
کلام: زہرا نگاہ
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھارفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا
تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوتاور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھارفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا
تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوتاور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیںدیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں
دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھےدیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں