7 اشعار

چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)

Chamakti hui dhoop tezi se nikli (radeef .. ye)

چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)

«چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلیگزرتی ہوئی بارشوں کو بلانے

ہواؤں نے ضد کی کہ ہم بھی چلیں گےلگیں ٹھنڈکیں اپنے پیکر سجانے

ملی تھی خبر موسموں کو کہیں سےکسی کنج گلشن میں ہیں دو دوانے

وہ برسوں کے بعد آج یکجا ہوئے ہیںجو بیتی ہے اک دوسرے کو سنانے

درختوں نے جھک جھک کے تعظیم بخشیبڑھے سبزہ و گل بھی آنکھیں بچھانے

کبھی ان کے چہروں کو بارش نے چوماکبھی ان کا دامن بسایا صبا نے

کبھی ان کی آنکھوں میں سورج نے جھانکاکبھی ڈال دی ان پہ چادر گھٹا نے

— زہرا نگاہ