4 اشعار

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے

Humein toh aadat zakhm-e-safar hai kya kahiye

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے

«ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئےیہاں پہ راہ وفا مختصر ہے کیا کہیے

جدائیاں تو یہ مانا بڑی قیادت ہیںرفاقتوں میں بھی دکھ کس قدر ہے کیا کہیے

حکایت غم دنیا طویل تھی کہہ دیحکایت غم دل مختصر ہے کیا کہیے

مجال دید نہیں حسرت نظارہ سہییہ سلسلہ ہی بہت معتبر ہے کیا کہیے

— زہرا نگاہ