4 اشعار

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے

Lab par khamoshiyon ko sajaye nazar churaye

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے

«لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائےجو اہل دل میں بیٹھے ہیں چپ چاپ سر جھکائے

کہہ دو کوئی صبا سے ادھر آج کل نہ آئےکلیاں کہیں مہک نہ اٹھیں پھول کھل نہ جائے

اب دوستی وہ فن کہ جو سیکھے وہی نبھائےاور ہے وفا تماشا جسے آئے وہ دکھائے

کچھ کہنا جرم ہے تو خطا وار میں بھی ہوںیہ اور بات میرا کہا وہ سمجھ نہ پائے

— زہرا نگاہ