یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
کلام: زہرا نگاہ
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتاگھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا
جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتاتاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتاگھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا
جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتاتاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملااتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا
اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئیلہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا