6 اشعار

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

is umeed pe roz chiragh jalate hain

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

«اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیںآنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہےپھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں

دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیںرات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں

دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والےاپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں

دیکھو تو لگتا ہے جیسے دیکھا تھاسوچو تو پھر نام نہیں یاد آتے ہیں

کیسی اچھی بات ہے زہرہؔ تیرا نامبچے اپنے بچوں کو بتلاتے ہیں

— زہرا نگاہ