6 اشعار

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

Jaan dena bas ek ziyan ka sauda tha

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

«جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھاراہ طلب میں کس کو یہ اندازہ تھا

آنکھوں میں دیدار کا کاجل ڈالا تھاآنچل پہ امید کا تارہ ٹانکا تھا

ہاتھوں کی بانکیں چھن چھن چھن ہنستی تھیںپیروں کی جھانجھن کو غصہ آتا تھا

ہوا سکھی تھی میری، رت ہمجولی تھیہم تینوں نے مل کر کیا کیا سوچا تھا

ہر کونے میں اپنے آپ سے باتیں کیںہر پہچل پر آئینے میں دیکھا تھا

شام ڈھلے آہٹ کی کرنیں پھوٹی تھیںسورج ڈوب کے میرے گھر میں نکلا تھا

— زہرا نگاہ