6 اشعار

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

Raat ajab aaseb-zada sa mausam tha

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

«رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھااپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا

ایک گل تنہائی تھا جو ہمدم تھاخار و غبار کا سرمایہ بھی کم کم تھا

آنکھ سے کٹ کٹ جاتے تھے سارے منظررات سے رنگ دیدۂ حیراں برہم تھا

جس عالم کو ہو کا عالم کہتے ہیںوہ عالم تھا اور وہ عالم پیہم تھا

خار خمیدہ سر تھے بگولے بے آوازصحرا میں بھی آج کسی کا ماتم تھا

روشنیاں اطراف میں زہراؔ روشن تھیںآئینے میں عکس ہی تیرا مدھم تھا

— زہرا نگاہ