11 اشعار

میں بچ گئی ماں

Main bach gayi maa

میں بچ گئی ماں

«میں بچ گئی ماں» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

میں بچ گئی ماںمیں بچ گئی ماں

ترے کچے لہو کی مہندیمرے پور پور میں رچ گئی ماں

میں بچ گئی ماںگر میرے نقش ابھر آتے

وہ پھر بھی لہو سے بھر جاتےمری آنکھیں روشن ہو جاتی تو

تیزاب کا سرمہ لگ جاتاسٹے وٹے میں بٹ جاتی

بے کاری میں کام آ جاتیہر خواب ادھورا رہ جاتا

مرا قد جو تھوڑا سا بڑھتامرے باپ کا قد چھوٹا پڑتا

مری چنری سر سے ڈھلک جاتیمرے بھائی کی پگڑی گر جاتی

تری لوری سننے سے پہلےاپنی نیند میں سو گئی ماں

انجان نگر سے آئی تھیانجان نگر میں کھو گئی ماں

میں بچ گئی ماںمیں بچ گئی ماں

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں