12 اشعار

متاع الفاظ

Mata-e-Alfaaz

متاع الفاظ

«متاع الفاظ» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنوہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر

اتفاقا کبھی بھولے سے کہیں مل جائیںکیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح

کچھ تکلف سے سہی ٹھہر کے کچھ بات کریںاور اس عرصۂ اخلاق و مروت میں کبھی

ایک پل کے لئے وہ ساعت نازک آ جائےناخن لفظ کسی یاد کے زخموں کو چھوئے

اک جھجکتا ہوا جملہ کوئی دکھ دے جائےکون جانے گا کہ ہم دونوں پہ کیا بیتی ہے

اس خموشی کے اندھیروں سے نکل آئیں چلوکسی سلگے ہوئے لہجے سے چراغاں کر لیں

چن لیں پھولوں کی طرح ہم بھی متاع الفاظاپنے اجڑے ہوئے دامن کو گلستاں کر لیں

چن لیں پھولوں کی طرح ہم بھی متاع الفاظدولت درد بڑی چیز ہے اقرار کرو

نعمت غم بڑی نعمت ہے یہ اظہار کرولفظ پیمان بھی اقرار بھی اظہار بھی ہیں

طاقت صبر اگر ہو تو یہ غم خوار بھی ہیںہاتھ خالی ہوں تو یہ جنس گراں بار بھی ہیں

پاس کوئی بھی نہ ہو پھر تو یہ دل دار بھی ہیںہاتھ خالی ہوں تو یہ جنس گراں بار بھی ہیں

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنویہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنو

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں