10 اشعار

بلاوہ

Bulawa

بلاوہ

«بلاوہ» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیںجہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا

سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائےجو آئے اس کا استقبال کرتی ہے

اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہےیہی وہ راستہ ہے جس جگہ سایہ نہیں جاتا

جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتاجو سچ پوچھو تو ہم تم زندگی بھر ہارتے آئے

ہمیشہ بے یقینی کے خطر سے کانپتے آئےہمیشہ خوف کے پیراہنوں سے اپنے پیکر ڈھانکتے آئے

ہمیشہ دوسروں کے سائے میں اک دوسرے کو چاہتے آئےبرا کیا ہے اگر اس کوہ کے دامن میں چھپ جائیں

جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتاکہاں تک اپنے بوسیدہ بدن محفوظ رکھیں گے

کسی کے ناخنوں ہی کا مقدر جاگ لینے دوکہاں تک سانس کی ڈوری سے رشتے جھوٹ کے باندھیں

کسی کے پنجۂ بے درد ہی سے ٹوٹ جانے دوپھر اس کے بعد تو بس اک سکوت مستقل ہوگا

نہ کوئی سرخ رو ہوگا، نہ کوئی منفعل ہوگا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں