6 اشعار

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

Naqsh ki tarah ubharna bhi tumhi se seekha

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

«نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھارفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا

تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوتاور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا

اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھےاپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا

تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادبلفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا

رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جاناجامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا

چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھاپر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں