5 اشعار

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

Qurbaton se kab talak apne ko behlaayenge hum

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

«قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہمڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم

تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہردیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم

گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئےخالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم

ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی کتابوسوسوں وہموں کے طوفانوں میں گھر جائیں گے ہم

اس نے آہستہ سے زہراؔ کہہ دیا دل کھل اٹھاآج سے اس نام کی خوشبو میں بس جائیں گے ہم

— زہرا نگاہ