5 اشعار

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

Raat gehri thi phir bhi savera sa tha

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

«رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھاایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا

بے چراغی سے تیری مرے شہر دلوادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا

میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہےبھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا

بات کیجے تو کھلتے تھے جوہر بہتدیکھنے میں تو وہ شخص سادہ سا تھا

صلح جس سے رہی میری تا زندگیاس کا سارے زمانے سے جھگڑا سا تھا

— زہرا نگاہ