4 اشعار

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

Wahshat mein bhi minnat kash-e-sahra nahin hote

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

«وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتےکچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے

جاں دیتے ہیں جاں دینے کا سودا نہیں کرتےشرمندۂ اعجاز مسیحا نہیں ہوتے

ہم خاک تھے پر جب اسے دیکھا تو بہت روئےسنتے تھے کہ صحراؤں میں دریا نہیں ہوتے

اک تار گریباں کا رہے دھیان کہ سب لوگمحفل میں تو ہوتے ہیں شناسا نہیں ہوتے

— زہرا نگاہ