6 اشعار

دیر تک روشنی رہی کل رات

Der tak roshni rahi kal raat

دیر تک روشنی رہی کل رات

«دیر تک روشنی رہی کل رات» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دیر تک روشنی رہی کل راتمیں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات

ایک مدت کے بعد دھند چھٹیدل نے اپنی کہی سنی کل رات

انگلیاں آسمان چھوتی تھیںہاں مری دسترس میں تھی کل رات

اٹھتا جاتا تھا پردۂ نسیاںایک اک بات یاد تھی کل رات

طاق دل پہ تھی گھنگھروؤں کی صدااک جھڑی سی لگی رہی کل رات

جگنوؤں کے سے لمحے اڑتے تھےمیری مٹھی میں آ گئی کل رات

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں